🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب الْوَلاَءِ:
ولاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ وَنِعْمَةٌ، أَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنْ الْمُعْتِقِ".
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مولیٰ دینی بھائی اور آزاد کرانے والا بھائی ہے، اور اس کی میراث کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو آزاد کرنے والے کے سب سے زیادہ قریب ہو۔ «نعمة» سے مراد «صاحب المنه» ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح يونس بن يزيد من أثبت الناس في الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3049] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن مرسل ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا۔ دیکھئے: [ابن منصور 272] ، [البيهقي 304/1]
وضاحت: (تشریح حدیث 3038)
عہدِ غلامی میں دستور تھا کہ لونڈی یا غلام اپنے آقا کا منہ مانگا روپیہ ادا کر کے آزاد ہو سکتے تھے، مگر آزادی کے بعد ان کی وراثت پہلے مالکوں کو ملتی تھی، اسلام نے جہاں غلامی کو ختم کیا ایسے غلط در غلط رواجوں کو بھی ختم کیا، اور بتلایا کہ جو بھی کسی غلام کو آزاد کرائے اس کی وراثت ترکہ وغیرہ کا غلام کی موت کے بعد اگر کوئی اس کا نسبتی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا ہی بطورِ عصبہ اس کا وارث قرار پائے گا، لفظ ولاء کا یہی مطلب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الولاء لمن اعتق» (متفق علیہ) آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حدثنا مَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، ثُمَّ مَاتَ الْمَوْلَى وَالْمَمْلُوكُ، وَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ، قَالَا: "الْمَالُ لِلِابْنِ".
محمد بن سالم نے کہا: شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایسا شخص جس نے غلام آزاد کیا پھر آزاد کرنے والا (مالک و مولی) اور غلام فوت ہو گیا اور آزاد کرنے والا اپنا باپ اور بیٹا چھوڑ گیا تو مال بیٹے کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3040]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الحديث إسناده صحيح إلى الحسن وباقي الإسناد ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3050] »
محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 263] ، [ابن أبى شيبه 11566]
وضاحت: (تشریح حدیث 3039)
معتق کا سب سے اقرب اس کا لڑکا ہے، اس لئے غلام یا لونڈی کی میراث کا وارث وہی ہوگا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَبَاهُ وَابْنَ ابْنِهِ، فَقَالَ: "الْوَلَاءُ لِابْنِ الِابْنِ".
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک آدمی نے اپنا باپ اور پوتا چھوڑا تو ولاء (حق وراثت) پوتے کا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن وعباد هو: ابن العوام، [مكتبه الشامله نمبر: 3051] »
اس اثر کی سند حسن ہے، اور عباد: ابن العوام ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11566] ، [عبدالرزاق 16298]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعَمَّرٌ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ: أَنَّ امْرَأَةً أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ ابْنَهَا وَأَخَاهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ مَوْلَاهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ الْمَرْأَةِ وَأَخُوهَا فِي مِيرَاثِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مِيرَاثُهُ لِابْنِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ أَخُوهَا: يَا رَسُولَ اللَّه، ِلَوْ أَنَّهُ جَرَّ جَرِيرَةً، عَلَى مَنْ كَانَتْ؟ قَالَ: عَلَيْكَ".
خصیف نے روایت کیا: زیاد بن ابی مریم سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنا غلام آزاد کیا، پھر اس عورت کا انتقال ہو گیا اور اس نے اپنا بیٹا اور بھائی چھوڑا، پھر اس کا غلام بھی فوت ہو گیا تو اس عورت (آزاد کرنے والی) کا لڑکا اور اس عورت کا بھائی میراث کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی میراث (آزاد کرنے والی) عورت کے لڑکے کے لئے ہے، عورت کے بھائی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر وہ کوئی گناہ کرتا تو کون ذمہ دار ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ذمے دار ہوتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3052] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ خصیف: ابن عبدالرحمٰن الجزری صدوق سئي الحفظ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 390/11] ، [عبدالرزاق 35/9] ، [إرواء الغليل 1697] اس میں ہے عورت کے بھائی نے کہا: اگر وہ کوئی گناہ کرتا تو تاوان میرے اوپر ہوتا؟ فرمایا: ”ہاں۔“

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ"عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ، فَمَاتَ وَمَاتَ الْمَوْلَى، فَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ، فَقَالَ لِأَبِيهِ: كَذَا، وَمَا بَقِيَ فَلِابْنِهِ".
مغیرہ نے کہا: میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے پوچھا: ایک آدمی نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا، پھر غلام اور آزاد کرنے والے فوت ہو گئے اور آزاد کرنے والے نے باپ اور اپنا بیٹا چھوڑا، تو انہوں نے کہا: باپ کے لئے اتنا ہے اور جو بچے وہ (عصبہ ہونے کے سبب) اس کے بیٹے کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3053] »
اس اثر کی سند ابراہیم رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 261] ، [ابن أبى شيبه 11567] ، [عبدالرزاق 16257]
وضاحت: (تشریح احادیث 3040 سے 3043)
اوپر شعبی کا قول گذر چکا ہے کہ آزاد کردہ غلام کا سارا مال آزاد کرنے والے کا بیٹا لے گا، کیوں کہ یہ ولاء حق آزادی کا مسئلہ ہے، یہاں ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا کہ عام حقِ وراثت کی طرح سدس باپ کا ہوگا باقی پانچ حصے بیٹے کے ہوں گے۔
والله اعلم بالصواب۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3044
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ، وَحَمَّادًا، يَقُولَانِ: "هُوَ لِلِابْنِ".
شعبہ سے مروی ہے: میں نے حکم اور حماد سے سنا، وہ کہتے تھے: (مذکورہ بالا صورت میں غلام کے مال کا حق دار صرف) وہ مال بیٹے کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف: فيه عنعنة هشيم، [مكتبه الشامله نمبر: 3054] »
ہشیم کے عنعنہ کے سبب اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11570، 11571، 11574] ، [عبدالرزاق 16257]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3045
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَن": أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ، فَأَتَاهُ فَسَاوَمَ بِهِ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَرَآهُ رَجُلٌ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: هُوَ أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ، قَالَ: مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ؟ قَالَ: إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ، وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ، قَالَ: مَا تَرَى فِي مَالِهِ؟ قَالَ: إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً فَأَنْتَ وَارِثُهُ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کی طرف گئے تو دیکھا ایک آدمی بیچا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے اور اس کے دام لگائے، پھر اس کو چھوڑ آئے (یعنی خریدا نہیں)، ایک اور آدمی نے اسے دیکھا اور خرید لیا اور آزاد کر دیا، پھر اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: میں نے اس کو خریدا ہے اور اس کو آزاد کرتا ہوں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارا (اسلامی) بھائی اور غلام ہے، اس نے پوچھا اس کو ساتھ رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: اگر اس نے تمہارا شکر ادا کیا تو یہ اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے اچھا نہیں ہے، اور اگر تمہاری وہ ناشکری کرے تو وہ تمہارے لئے بہتر اور اس کے لئے برا ہے، اس نے پوچھا: اس کے مال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: اگر وہ مر جائے اور مال سمیٹنے والے وارث موجود نہ ہوں تو تم اس کے وارث ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الأشعث، [مكتبه الشامله نمبر: 3055] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور یہ مرسل بھی ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 1621] ، [البيهقي 240/6 مرسلًا]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3046
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ: أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا، فَمَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوْلَاتَهُ بِنْتَ حَمْزَةَ،"فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَمَوْلَاتِهِ بِنْتِ حَمْزَةَ نِصْفَيْنِ".
عبداللہ بن شداد سے مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے اپنا غلام آزاد کر دیا، وہ غلام اپنی بیٹی اور مالکہ بنت حمزہ کو چھوڑ کر فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی میراث کو اس کی بیٹی اور مالکہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار وهو مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 3056] »
اشعث بن سوار کی وجہ سے اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری اسانید سے یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2734] ، [ابن أبى شيبه 11183، 11184] ، [عبدالرزاق 16210] ، [ابن منصور 174] ، [طبراني 355/24، 880] ، [الحاكم 66/4] ، [البيهقي 241/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3043 سے 3046)
اس سے معلوم ہوا کہ آزاد کردہ غلام یا لونڈی کے وارثین سے جو بچے گا اس کا وارث مالک یا مالکہ ہوگی۔
سارے مال کا وارث آزاد کرنے والا یا کرنے والی اس وقت مستحق ہوگا جب کوئی اور حقیقی وارث موجود نہ ہو۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ شَمُوسَ الْكِنْدِيَّةِ، قَالَتْ:"قَاضَيْتُ إِلَى عَلِيٍّ فِي أَبٍ مَاتَ فَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا غَيْرِي، وَمَوْلَاهُ، فَأَعْطَانِي النِّصْفَ، َوَأَعْطَى مَوْلَاهُ النِّصْفَ".
شموس الکندیہ نے کہا: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک قضیہ لے کر گئی کہ میرے باپ نے مجھے اور مالک (آزاد کرنے والے) کو چھوڑا ہے، تو انہوں نے مجھے نصف دیا اور باقی نصف آزاد کرنے والے مالک کو دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شموس الكندية وشموس هذه ما وجدت لها ترجمة، [مكتبه الشامله نمبر: 3057] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس کی سند میں شیبانی: سلیمان بن فیروز اور حکم: ابن عتیبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11186] ، [ابن منصور 176] ۔ آگے بھی یہ اثر آ رہا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3046)
اصحاب الفروض کی غیر موجودگی میں بیٹی کا حصہ آدھا ہے، باقی جو بچے وہ مالک کا، اسی اصول کے تحت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ، عَنْ عَلِيٍّ:"أَنَّهُ أُتِيَ بِابْنَةٍ وَمَوْلًى، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَالْمَوْلَى النِّصْفَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَمَنْزِلِي هَذَا نَصِيبُ الْمَوْلَى الَّذِي وَرِثَهُ عَنْ مَوْلَاهُ.
ابوالکنود سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکی (بیٹی) اور آقا (مالک) کا قضیہ لایا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور آزاد کرنے والے مالک کو باقی آدھا دیا، حکم نے کہا: پس میرا مکان اس والی کا حصہ ہے جو اس کو اس کے مالک نے میراث میں پایا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن أبي ليلى سيئ الحفظ جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 3058] »
اس روایت کی سند میں محمد بن ابی یعلی سییٔ الحفظ جدا ہیں، اور ابوالکنود کا نام عبداللہ بن عامر ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں