🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند عبدالله بن عمر سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر:95
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ قَدْ عُطِّلَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ، كَانَ لَهُ كِفْلانِ مِنَ الأَجْرِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، مسجد کی بائیں جانب بالکل خالی ہو گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسجد کی بائیں جانب کو آباد کیا اس کو دگنا ثواب ملے گا۔“ [مسند عبدالله بن عمر/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجة، اقامة الصلوات والسنة فيها، باب فضل ميمنة الصف، رقم الحديث: 1007»
محدث البانی نے اسے لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے۔

الحكم على الحديث:
ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں