🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ نَفَقَةِ الْمَرْأَةِ إِذَا غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَنَفَقَةِ الْوَلَدِ:
باب: کسی عورت کا شوہر اگر غائب ہو تو اس کی عورت کیونکر خرچ کرے اور اولاد کے خرچ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5359
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بہت بخیل ہیں، تو کیا میرے لیے اس میں کوئی گناہ ہے اگر میں ان کے مال میں سے (اس کے پیٹھ پیچھے) اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، لیکن دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5359]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اللہ کے رسول! ابو سفیان رضی اللہ عنہ انتہائی بخیل آدمی ہیں، کیا مجھے گناہ ہوگا اگر میں (ان کے علم کے بغیر) ان کے مال میں سے اپنے بچوں کو کھلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مگر ایسا دستور کے مطابق ہونا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5359]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5360
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر بن راشد نے، ان سے ہمام بن عیینہ نے، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے، اس کے حکم کے بغیر (دستور کے مطابق) اللہ کے راستہ میں خرچ کر دے تو اسے بھی آدھا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5360]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کی کمائی سے فی سبیل اللہ خرچ کر دے تو اسے بھی آدھا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5360]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں