صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ لاَ هَامَةَ:
باب: الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے۔
حدیث نمبر: 5757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ".
ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے خبر دی، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5757]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”چھوت لگ جانا، بدشگونی لینا اور الو یا صفر کی نحوست کوئی شے نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة