🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. بَابُ سَتْرِ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ:
باب: مومن کا اپنے (عیب) پر پردہ ڈالنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6069
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب نے، ان سے ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6069]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمام امت کو معاف کر دیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے، باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے، لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا، حالانکہ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا، جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیے گئے اللہ کے پردے کھولنے لگا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6070
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ:" عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا"، فَيَقُولُ: نَعَمْ، وَيَقُولُ:" عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا"، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَرِّرُهُ، ثُمَّ يَقُولُ:" إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے صفوان بن محرز سے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانا پھوسی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ (یعنی سرگوشی کے بارے میں) انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے (قیامت کے دن تم مسلمانوں) میں سے ایک شخص (جو گنہگار ہو گا) اپنے پروردگار سے نزدیک ہو جائے گا۔ پروردگار اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور فرمائے گا تو نے (فلاں دن دنیا میں) یہ یہ برے کام کئے تھے، وہ عرض کرے گا۔ بیشک (پروردگار مجھ سے خطائیں ہوئی ہیں پر تو غفور رحیم ہے) غرض (سارے گناہوں کا) اس سے (پہلے) اقرار کرا لے گا پھر فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں تیرے گناہ چھپائے رکھے تو آج میں ان گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6070]
حضرت صفوان بن محرز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرگوشی کے متعلق کیا فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تم میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنا بازو اس پر رکھ کر فرمائے گا: کیا تو نے فلاں فلاں برے کام کیے تھے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے اللہ تعالیٰ! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے یہ برے کام کیے تھے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کرانے کے بعد فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھا اور آج میں تیرے وہ گناہ معاف کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں