🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ سامنے سے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! یہ دونوں حضرات انبیاء و مرسلین کے علاوہ جنت کے تمام بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 602]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
(حديث مرفوع) أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْءٍ، فَكَيْفَ؟ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ، فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟"، قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ:" فَأَعْطِنيِهَا"، قال: فأَعَطْيُتها إِيَّاهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لئے پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا کہ میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، پھر یہ کیسے ہو گا؟ پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی اور شفقت یاد آئی چنانچہ میں نے پیغام نکاح بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے بھی؟ میں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: تمہاری وہ حطمیہ کی زرہ کیا ہوئی جو میں نے تمہیں فلاں دن دی تھی؟ عرض کیا کہ وہ تو میرے پاس ہے؟ فرمایا: پھر وہی دے دو، چنانچہ میں نے وہ لا کر انہی کو دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 603]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى سمع عليا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ، فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ"، أَحَدُهَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خادم کی درخواست لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٣ مرتبہ الحمدللہ کہہ لیا کرو، ان میں سے کوئی ایک ٣٤ مرتبہ کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 604]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5362، م: 2727
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کر لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 605]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً شبه موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 606]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 132، م: 303
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكَرَّمٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 607]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وسيأتي برقم: 968، ..... عن ابن إسحاق حدثني عمي عبدالرحمن بن يسار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ، فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ:" أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ؟ كُنْتُ أُصَلِّي، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ، فَخَرَجْتُ، فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ، إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا، فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ، وَلَا تِمْثَالٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ صبح و شام دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پتہ ہے آج رات فرشتے نے کیا کیا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے وہ کہنے لگے کہ میری ساری رات آپ کے انتظار میں گزر گئی، آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آ گیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آ سکتا، کیونکہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 608]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعلل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُضَحَّى بِالْمُقَابَلَةِ، أَوْ بِمُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو یا وہ پھٹ گیا ہو یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 609]

حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبوبكر بن عياش سماعه من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق لم يسمع هذا الحديث من شريح بن النعمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ مُرْتَفِعَةً".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جائے، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 610]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمُعَصْفَرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 611]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 480، 2078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں