مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوا، قَالَ: وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي؟ قَالَ: قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا، قَالَ: فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوها، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آ گیا اور اس نے ان سے کہا کہ پھر لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا کہ میں تمہیں قسم دیتاہوں کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہو، اس میں جلد بازی مت کرو پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر پوچھ لو، اگر وہ تمہیں اس میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں تو ضرور ایسا ہی کرو۔ چنانچہ لوگ رک گئے اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 622]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4340، م 1840
حدیث نمبر: 623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ : اجْلِسْ، فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبْتٍ: حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرَقِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحَبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجِنَازَةِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ".
واقد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں بنوسلمہ کے کسی جنازے میں شریک تھا، میں جنازے کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا، تو نافع بن جبیر مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس سلسلے میں ایک مضبوط بات بتاتا ہوں، مجھے مسعود بن حکم نے بتایا ہے کہ انہوں نے جامع کوفہ کے صحن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 623]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن م: 962
حدیث نمبر: 624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ، أَيْ: بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ، فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: يَا حَسَنُ، قُمْ فَاجْلِدْهُ، قَالَ: مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ، وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ، قَالَ: بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ وَعَجَزْتَ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ يَضْرِبُهُ، وَيَعُدُّ عَلِيٌّ، حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَمْسِكْ، أَوْ قَالَ: كُفَّ،" جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ".
ابوساسان رقاشی کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے پر گفتگو کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچازاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، اس نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا: اصل میں تم کمزور اور عاجز ہو گئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، سیدنا ابوبکرضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 624]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 1707
حدیث نمبر: 625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ بَيْتِي، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْتُهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ،" فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ، وَفِيهِمَا النَّعْلُ، ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا، ہم ان کے پاس ایک پیالہ لائے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی آتا تھا اور وہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا، اس وقت وہ پیشاب سے فارغ ہو چکے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ چنانچہ ان کے وضو کے لئے برتن رکھا گیا، پہلے انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرے پر مارا اپنے انگوٹھے کا پانی کان کے سامنے والے حصے پر ڈالا تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو بھر کر پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈال لیا، تاکہ وہ چہرے پر بہہ جائے، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، بائیں ہاتھ کو بھی اسی طرح دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا، جبکہ انہوں نے جوتی پہن رکھی تھی، پھر جوتی کو ہلایا اور دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا۔ میں نے عرض کیا کہ جوتی پہنے ہوئے بھی وضو ہو سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہو سکتا ہے۔ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 625]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ الْخَوَارِجُ، فَقَالَ:" فِيهِمْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُثَدَّنُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ"، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إي ورب الكعبة، إي ورب الكعبة.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 626]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1066
حدیث نمبر: 627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم پڑھایا کرتے تھے، بشرطیکہ اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند نہ ہوتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 627]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا بَعَثْتَنِي، أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ، أَمْ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ؟ قَالَ:" الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا، جب آپ مجھے کہیں بھیجتے ہیں تو میں ڈھلا ہوا سکہ بن کر جایا کروں یا وہاں کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کروں کیونکہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا؟ فرمایا: ”بلکہ یہ بات سامنے رکھو کہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا (اور حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کرو)۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 628]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، محمد بن عمر بن على بن أبى طالب - لم يدرك جده
حدیث نمبر: 629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيًّا ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ، يَلِجْ النَّارَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 629]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والحديث متواتر ، خ: 106، ومسلم فى المقدمة : 1
حدیث نمبر: 630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاهُ حُسَيْنٌ عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ، يَلِجْ النَّارَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 630]
حکم دارالسلام: حديث متواتر، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فَقُمْنَا، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے احترام میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہونے لگے، بعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 631]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 962