مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6517]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَأَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ:" هَذَا شَرٌّ، هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ"، فَأَلْقَاهُ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَسَكَتَ عَنْهُ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا: ”۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6518]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 6519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ، وَلَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ، مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روئے زمین پر اور آسمان کے سائے تلے ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6519]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن عمير
حدیث نمبر: 6520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي، فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ:" لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ"، فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا، أَتَشَوَّفُ دَاخِلًا وَخَارِجًا، حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ، يَعْنِي الْحَكَمَ.
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میرے والد سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے چلے گئے تھے تاکہ بعد میں مجھ سے مل جائیں اسی اثنا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے پاس ایک ملعون آدمی آئے گا واللہ مجھے تو مستقل دھڑکالگارہا اور میں اندرباہر برابر جھانک کر دیکھتا رہا (کہ کہیں میرے والد نہ ہوں) یہاں تک کہ حکم مسجد میں داخل ہوا (وہ مراد تھا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6520]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا رَأَيْتُمْ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ إِنَّكَ أَنْتَ ظَالِمٌ، فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہو گئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے شکلیں مسخ کر دئیے جانے اور پتھروں کی بارش کا عذاب ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6521]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو الزبير لم يسمع من عبد الله بن عمرو، وقال رسول الله: «يكون فى امتي خسف و مسخ وقذف» ، حسن لغيره، و إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6522]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2480، م: 141، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 6523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ: عَنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ"، فَبَدَأَ بِهِ،" وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ"، قَالَ يَعْلَى: وَنَسِيتُ الرَّابِعَ.
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکر ہ کر نے لگے اور فرمایا: ”کہ کہ ایسا آدمی ہے جس میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا پھر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا پھر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کاراوی کہتے ہیں کہ چوتھا نام میں بھول گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6523]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3760، م: 2464
حدیث نمبر: 6524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رحم عرش کے ساتھ معلق ہے بدلہ دینے والا صلہ رحمی کر نے والے کے زمرے میں نہیں آتا اصل صلہ رحمی کر نے والا تو وہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس سے رشتہ توڑے تو وہ اس سے رشتہ جوڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6524]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ رَأَيْتُهُ تَيَمَّمَ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا اسْتَبَانَتْ، جَلَسَ تَحْتَهَا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ:" هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟" قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِلَاهُمَا، قَالَ:" فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ"، قَالَ: فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام " ناعم " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا جب ہم لوگ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں تھے تو وہ قصداً وارادۃً کسی چیز پر غور سے نظریں جمائے رہے جب وہ چیز واضح ہو گئی جو کہ ایک درخت تھا " تو وہ اس کے نیچے آ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس جانب سے ایک آدمی آیا اور سلام کر کے کہنے لگا یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں اور میرا مقصد صرف اللہ کی رضاء حاصل کرنا اور آخرت کا ٹھکانہ حاصل کرنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں دونوں زندہ ہیں فرمایا: ”جاؤ اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو چنانچہ وہ جہاں سے آیا تھا وہیں چلا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6525]
حکم دارالسلام: صحيح، م: 2549
حدیث نمبر: 6526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن؟ قَالَ: الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ".
ابوحیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی تھوڑی دیر بعد جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو وہ رو رہے تھے لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا: ”اس حدیث کی وجہ سے جو انہوں نے مجھ سے بیان کی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6526]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن