مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6527]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:1979، م: 1159
حدیث نمبر: 6528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6528]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 241
حدیث نمبر: 6529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْف ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، رَفَعَهُ سُفْيَانُ، وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ، قَالَ:" مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ"، قَالُوا: وَكَيْفَ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ:" يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6529]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 90
حدیث نمبر: 6530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مالدار آدمی کے لئے یا کسی مضبوط اور طاقتور (ہٹے کٹے) آدمی کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6530]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَتَخْرُجُ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، فَأَيُّهُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ، وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا"، يقول" هِيَ الَّتِي أَوَّلًا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اور دابۃ الارض کا خروج چاشت کے وقت ہو گا ان دونوں میں سے جو نشانی پہلے پوری ہو گئی دوسری بھی عنقریب پوری ہو جائے گی البتہ میرا خیال یہ ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی علامت قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6531]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2941
حدیث نمبر: 6532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6532]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 6533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا، فِيهِ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاء کسی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6533]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے نزدیک ایک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا ہے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹاحصہ پھر آرام کرتے تھے اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6534]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لَمْ يَفْقَهْهُ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6535]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1159
حدیث نمبر: 6536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ مُعَصْفَرَةٌ، فَقَالَ:" أَلْقِهَا فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے میرے جسم پر دیکھے تو فرمایا: ”یہ کافروں کا لباس ہے اسے اتاردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6536]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2077