🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. حَدِیث المطَّلِبِ بنِ اَبِی وَدَاعَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" سَجَدَ فِي النَّجْمِ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ"، قَالَ الْمُطَّلِب: وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، فَقَالَ الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا.
سیدنا مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت مشرک تھا اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کر وں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15464]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عكرمة بن خالد لم يسمع من المطلب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ.
سیدنا مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت مشرک تھا اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کر وں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15465]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال جعفر بن المطلب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں