مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
319. حَدِیث مِحجَن الدِّیلِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 16393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لِي:" أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟"، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ:" فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ".
سیدنا محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نماز کھڑی ہو گئی تو میں ایک طرف کو بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مسلمان نہیں ہو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی میں نے عرض کیا: کہ میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اگرچہ گھر میں نماز پڑھ لی ہو تب بھی لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16393]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بسر بن محجن، وقد توبع
حدیث نمبر: 16394
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16394]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بسر بن محجن، وقد توبع
حدیث نمبر: 16395
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ:" إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
سیدنا محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نماز کھڑی ہو گئی تو میں ایک طرف کو بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مسلمان نہیں ہو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی میں نے عرض کیا: کہ میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اگرچہ گھر میں نماز پڑھ لی ہو تب بھی لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16395]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بسر، وقد توبع