🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

412. بَقِيَّةُ حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16677
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عْنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَغْشَى الدَّارَ أَوْ الدِّيَارَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَيْلًا مَعَهُمْ صِبْيَانُهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ، فَنَقْتُلُهُمْ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16677]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745، مسلم بن خالد ضعيف، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16678
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ صَابِغًا رَأْسَهُ بِالسَّوَادِ".
زنگی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری کو اپنے سر پر سیاہ رنگ کئے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16678]

حکم دارالسلام: هذا الأثر صحيح، الزنجي ضعيف، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16679
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ يَعْنِي النَّضْرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
سیدنا صعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16679]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16680
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَأَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَعَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي، فَقَالَ:" إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16680]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1825، م: 1193
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16681
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اقْتُلْهُمْ مَعَهُمْ"، قَالَ: وَقَدْ نَهَى عَنْهُمْ يَوْمَ خَيْبَرَ.
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بھی قتل کر دو، پھر خیبر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرما دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16681]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1765، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع والقائل: وقد نهى عنهم يوم خيبر: هو الزهري ولفظ خيبر تحريف قديم، والصواب: حنين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16682
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَعْنِي الْحُمَيْدِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَيُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16682]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16683
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16683]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16684
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَأَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا صعب کی مذکورہ حدیث ہمیں عمرو بن دینار نے امام زہری کے حوالے سے بتائی، اس وقت تک ہم امام زہری سے نہیں ملے تھے، عمرو نے اس حدیث میں یہ کہا تھا کہ مشرکین کے بچے انہی میں سے ہیں، لیکن جب امام زہری ہمارے یہاں آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کی تحقیق کی، انہوں نے یہ لفظ نہیں فرمایا: بلکہ یہ فرمایا: تھا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16684]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقال سفيان: «لحم حمار وحش» والمحفوظ: حمار وحش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16685
قَالَ سُفْيَانُ : فَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، بِحَدِيثِ الصَّعْبِ هَذَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَبْلَ أَنْ نَلْقَاهُ، فَقَالَ فِيهِ:" هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ" فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ تَفَقَّدْتُهُ فَلَمْ يَقُلْ، وَقَالَ: هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16686
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ نُصَبِّحُهَا لِلْغَارَةِ، فَنُصِيبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَيْلِ وَلَا نَشْعُرُ؟، فَقَالَ:" إِنَّهُمْ مِنْهُمْ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16686]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745 ، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن أبى الزناد وعبدالرحمن بن الحارث ضعيفان، وعبدالرحمن بن الحارث لم يسمع من عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں