مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
561. بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17801
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَن أَبِيهِ ، عَن أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ وَصِيَامِ 59 أهل الكتاب، أَكْلَةُ السَّحَرِ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17801]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1096
حدیث نمبر: 17802
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، ذَاكَ اللَّخْمِيُّ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَمْرُو، اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ وَأْتِنِي"، فَفَعَلْتُ فَجِئْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ، وَقَالَ:" يَا عَمْرُو، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا، فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَرْعَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَعْبَةً صَالِحَةً"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ. قَالَ:" يَا عَمْرُو، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ" . قَالَ كَذَا فِي النُّسْخَةِ نَعِمَّا بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ.
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہوجائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17802]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17803
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ:" لَا تَلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا، عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا: أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اشتباہ پیدا نہ کرو، ام ولدہ کا آقا اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17803]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة لم يسمع من عمرو
حدیث نمبر: 17804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ، يَقُولُ: " إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علانیہ طور پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آل ابو فلاں میرے ولی نہیں ہیں، میرا ولی تو اللہ اور نیک مومنین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17804]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5990، م: 215
حدیث نمبر: 17805
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، سَأَلَ الْمَوْلَى عَمْرًا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17805]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده ، مولي عمرو بن العاص لم يبين
حدیث نمبر: 17806
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: " عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مَثَلٍ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار مثالیں یاد کی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17806]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17807
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ، أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدْ اسْتَعْمَلَكَ. فَقَالَ: قَدْ اسْتَعْمَلَنِي، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ، أَوْ اسْتِعَانَةً بِي، وَلَكِنِّي" سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ" .
احسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا یہ بتائیے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہوں، تو کیا وہ نیک آدمی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور وہ آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے؟ انہوں نے فرمایا یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں، بخدا! میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار رضی اللہ عنہ سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17807]
حکم دارالسلام: هذا إسناد منقطع ، الحسن البصري لم يسمع من عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 17808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ، لَيَضَعَنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ. فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ كَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
عبداللہ بن ابی الہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہماری رعایت اور خیال فرماتے تھے، ایک مرتبہ بکر بن وائل قبیلے کا ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر قریش کے لوگ باز نہ آئے تو حکومت ان کے ہاتھ سے نکل کر جمہور اہل عرب کے ہاتھ میں چلی جائے گی، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا آپ سے غلطی ہوئی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش ہر نیکی اور برائی کے کاموں میں قیامت تک لوگوں کے سردار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17808]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17809
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ:" مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَنْتُمْ أَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17809]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَن مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ، فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ؟!" ثُمَّ قَالَ:" أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ؟!" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، میں حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی تلوار حمائل کر رکھی تھی، میں نے بھی اپنی تلوار پکڑی اور اسے حمائل کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! گھبراہٹ کے اس وقت میں تم اللہ اور اس کے رسول کے پاس کیوں نہیں آئے؟ پھر فرمایا تم نے اس طرح کیوں نہ کیا جس طرح ان دو مومن مردوں نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17810]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح