مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19303
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ،: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19303]
حکم دارالسلام: إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19304
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَاهُ، قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا قَدْ كَبُرْنَا وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ .
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ فرماتے کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور بھول گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19304]
حکم دارالسلام: أثر صحيح
حدیث نمبر: 19305
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : حَدِّثْنَا، قَالَ: كَبُرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ .
بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ فرماتے کہ ہم بوڑھے ہوگئے اور بھول گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19305]
حکم دارالسلام: أثر صحيح
حدیث نمبر: 19306
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19306]
حکم دارالسلام: إسناده ضيعف لجهالة أبى حمزة. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19307
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَا شَرِيكَيْنِ، فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ، وَنَسِيئَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمَا أَنَّ: مَا كَانَ بِنَقْدٍ، فَأَجِيزُوهُ، وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ، فَرُدُّوهُ .
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کے تجارتی شریک تھے ایک مرتبہ دونوں نے نقد کے بدلے میں اور ادھار چاندی خرید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پتہ چلی تو ان دونوں کو حکم دیا کہ جو خریداری نقد کے بدلے میں ہوئی ہے اسے تو برقرار رکھو اور جو ادھار کے بدلے میں ہوئی ہے اسے واپس کردو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19307]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19308
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفَسٍ لَا تَشْبَعُ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا"، قَالَ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَاهُنَّ، وَنَحْنُ نُعَلِّمُكُمُوهُنَّ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں لاچاری، سستی، بڑھاپے، بزدلی، کنجوسی اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اسے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطاء فرما اور اس کا تزکیہ فرما کہ تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا اور اس کا آقاومولیٰ ہے اے اللہ! میں خشوع سے خالی دل، نہ بھرنے والے نفس، غیرنافع علم اور مقبول نہ ہونے والی دعاء سے آپ کی پاہ میں آتاہوں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء ہمیں سکھاتے تھے اور ہم تمہیں سکھا رہے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19308]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2722
حدیث نمبر: 19309
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي"، قَالَ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبْعَ مِئَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19309]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19310
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، عَنِ الصَّرْفِ، فَهَذَا يقُولُ: سَلْ هَذَا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، وَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، فَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُمَا، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا، وَسَأَلْتُ هَذَا، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا.
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19310]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2180، م: 1589
حدیث نمبر: 19311
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ؟ قَالَ: بَلَى .
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا؟ انہوں نے کہا ہاں! اسی طرح ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19311]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19312
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: هَكَذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبدالعزیزبن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ تکبیرات کہہ دیں پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح تکبیرات کہہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19312]
حکم دارالسلام: أشار العقيلي إلى تضعيف هذا الطريق، وقد ورد هذا الحديث من طريق أخرى، وهو صحيح