مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19283
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قُلْتُ: أَوْ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: مَا لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصُّوفُ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے انہوں نے پوچھا اس پر ہمیں کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اون کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19283]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو داود نفيع بن الحارث متروك، وعائذ الله ضعيف
حدیث نمبر: 19284
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19284]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مولى الأنصار مجهول. وقول الحافظ ابن حجر: "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَامَنِي قَوْمِي، وَقَالُوا: مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟! قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَنِمْتُ كَئِيبًا حَزِينًا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكَ، وَصَدَّقَكَ"، قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا حَتَّى بَلَغَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 7 - 8 .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکر غمزدہ سالیٹ کر سونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا عذرنازل کرکے تمہاری سچائی کو ثابت کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جو زیادہ باعزت ہوگا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19285]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4902، م: 2772
حدیث نمبر: 19286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ! میں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19286]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وهذا حديث تفرد به قتاده، ورواه عنه جماعة من تلاميذه، واختلفوا عليه فيه
حدیث نمبر: 19287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَقَالَ يَوْمًا: " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ، وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہ کے دروازے مسجد نبوی کے طرف کھلتے تھے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی کے دروازے کو چھوڑ کر باقی سب دروازے بند کردو، اس پر کچھ لوگوں نے باتیں کیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، پھر امابعد کہہ کر فرمایا کہ میں نے علی کا دروازہ چھوڑ کر باقی تمام دروازے بند کرنے کا جو حکم دیا ہے اس پر تم میں سے بعض لوگوں کو اعتراض ہے اللہ کی قسم! میں اپنے طور پر کسی چیز کو کھول بند نہیں کرتا بلکہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19287]
حکم دارالسلام: إسناده ضيعف، ومتنه منكر، ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟! .
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19288]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 19289
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ، وَالزَّيْتِ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ذت الجنب کی بیماری میں عودہندی اور زیتون استعمال کیا کریں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19289]
حکم دارالسلام: التداوي بالعود الهندي منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف، و ميمون أبو عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 19290
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الشَّامِ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ قَالَ شُعْبَةُ: يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ" .
ابو عبداللہ شامی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے انصاری صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا اور مجھے امید ہے کہ اے اہل شام! یہ تم ہی ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19290]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي عبدالله الشامي
حدیث نمبر: 19291
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ، فَقَالَ: " مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي"، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: كُنَّا سَبْعَ مِئَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ؟ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19291]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول، وقول الحافظ ابن حجر: «وثقه النسائي» وهم
حدیث نمبر: 19292
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19292]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506