مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19313
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَهُوَ دَاخِلٌ عَلَى الْمُخْتَارِ، أَوْ: خَارِجٌ مِنْ عِنْدِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ"؟ قَالَ: نَعَمْ .
علی بن ربیعہ کہتے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی اس وقت وہ مختار کے پاس جارہے تھے یا آرہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میں تم میں دو مضبوط چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19313]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2408
حدیث نمبر: 19314
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْمُحَلِّمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالشَّهْوَةِ، وَالْجِمَاعِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ اليهود: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ" .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہر جنتی کو کھانے، پینے خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی ایک یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کا مسئلہ بھی پیش آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19314]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الأعمش مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 19315
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْلَى لِبَنِي ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَبَّ أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَقَالَ: أَمَا أَنْ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟! .
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی گورنر کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے؟ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19315]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 19316
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، وَأُبَيّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ .
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19316]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3949، م: 1254
حدیث نمبر: 19317
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَحْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أنهما سمعا أبا المنهال ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ، فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً، فَلَا يَصْلُحُ" .
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تجارت کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے بھی ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر معاملہ نقد کا ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھارہو تو پھر صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19317]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589
حدیث نمبر: 19318
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى الْعِيدَ أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُجَمِّعَ، فَلْيُجَمِّعْ" .
ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کے دن عید دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے پہلے حصے میں عید کی نماز پڑھی اور باہر سے آنے والوں کو جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا جو شخص چاہے وہ جمعہ پڑھ کر واپس جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19318]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إياس بن أبى رملة
حدیث نمبر: 19319
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ مِنَ الضُّحَى، فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ" .
قاسم شیبانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے فرمایا یہ لوگ جانتے بھی ہیں کہ یہ نماز کسی اور وقت میں افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19319]
حکم دارالسلام: هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
حدیث نمبر: 19320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا .
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چارتکبیرات کہتے تھے ایک مرتبہ کسی جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں لوگوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھارپانچ تکبیرات بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19320]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 957
حدیث نمبر: 19321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِئَةِ أَلْفٍ أَوْ: مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ"، قَالَ: فَسَأَلُوهُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ فَقَالَ: ثَمَانِ مِئَةٍ، أَوْ: سَبْعَ مِئَةٍ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو ہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا سات سویا آٹھ سو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19321]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو حمزة مجهول. وقوله الحافظ ابن حجر : "وثقة النسائي" وهم
حدیث نمبر: 19322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" ..
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19322]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4906، م: 2506