🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

802. حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19815
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ: ب سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا , قَالَ:" قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19815]

حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19816
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19817
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، يقَولَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ" , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ الهُذَلِي ، عن أَبَا السَّوَّارِ العَدَوي ، عن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیاء تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19817]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6117، م: 37 ، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19818
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ الهُذَلِي،ن أَبَا السَّوَّارِ العَدَوي،ن عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ،َنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19819
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مجھے بواسیر کی شکایت تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی ہمت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19819]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19820
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ، يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا، پھر ایک قوم آئے گی جس کے افراد خوب موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کرتے ہوں گے، وہ کسی کے کہنے سے پہلے ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19820]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19821
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ أَبِي: لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ وَكِيعٍ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار آدمی کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر بدنما دھبہ ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19821]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران ابن حصين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19822
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، َعنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ وَكِيعٌ: جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ حَيٌّ مِنْ يَمَنٍ، فَقَالَ:" اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَبِلْنَا .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو، وہ کہنے لگے یارسول اللہ! آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی، اب کچھ عطاء بھی کر دیجئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، تھوڑی دیر بعد یمن کا ایک قبیلہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو خوشخبری قبول نہیں کی، تم قبول کرلو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم نے اسے قبول کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19822]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19823
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْشَأُ فِيهِمْ السِّمَنُ" .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19823]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2651، م: 2535
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19824
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ" تَبَارَكَ وَتَعَالَى .
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 19824]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں