مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23062
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِكٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَابهِ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " مَرَّ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبرِهِ" ، قَالَ يَحْيَى: قَائِمٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23062]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23063
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبصَرَ وَخَفَضَهُ، فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا، وَلَا حَظَّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِب" .
دو آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقات و عطیات کی درخواست لے کر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور انہیں تندرست و توانا پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مالدار شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے طاقتور کا جو کمائی کرسکے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23063]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23064
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بعْضُهُمْ إِلَى نَبلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ، فَزِعَ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" مَا يُضْحِكُكُمْ؟"، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبلَ هَذَا، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا" .
ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں کئی صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سو گیا ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیاجب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگیا لوگ اس کی اس کیفیت پر ہنسنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی لوگوں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوفزدہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23064]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23065
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابنَ حَكِيمٍ ، أَخْبرَنِي تَمِيمُ بنُ يَزِيدَ مَوْلَى بنِي زَمْعَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تُخْبرْنَا مَا هُمَا، ثُمَّ قَالَ:" اثْنَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبشِّرُنَا، فَتَمْنَعُهُ؟! فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ، فَقَالَ: " ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بيْنَ رِجْلَيْهِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا لوگو! دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اس پر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! وہ دونوں چیزیں ہمیں نہ بتائیے (کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان پر عمل نہ کرسکیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی اور اس انصاری نے پھر وہی بات کہی تیسری مرتبہ اس کے ساتھیوں نے اسے روک دیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں تم دیکھ بھی رہے ہو اور پھر بھی انہیں روک رہے ہو؟ اس نے کہا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ صرف اس پر ہی بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک تو وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور ایک وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23065]
حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تميم بن يزيد
حدیث نمبر: 23066
حَدَّثَنَا يَعْلَى بنُ عُبيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، قَالَ: " قُسِّمَتْ النَّارُ سَبعِينَ جُزْءًا، فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ، وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ کو ستر حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے ٦٩ حصے قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہیں اور ایک حصہ قتل کرنے والے کے لئے ہے اور اس کے لئے اتنا بھی کافی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23066]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 23067
حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بنْتِ خُوَيْلِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ:" أَيْ خَدِيجَةُ، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ اللَّاتَ أَبدًا، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ الْعُزَّى أَبدًا"، قَالَ: فَتَقُولُ خَدِيجَةُ حِلَّ الْعُزَّى، قَالَ:" كَانَتْ صَنَمَهُمْ الَّتِي يَعْبدُونَ، ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ" .
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے خدیجہ! بخدا! میں لات کی عبادت کبھی نہیں کروں گا اللہ کی قسم میں عزیٰ کی عبادت کبھی نہیں کروں گا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ عزی وغیرہ کے حوالے سے اپنی قسم پوری کیجئے راوی کہتے ہیں کہ یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے پھر اپنے بستروں پر لیٹتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23067]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23068
حَدَّثَنَا أَسْباطٌ ، عَنْ هِشَامِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْبيْلَمَانِيِّ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بيَوْمٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرَ بهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بنِصْفِ يَوْمٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِيهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بضَحْوَةٍ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ"، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلًا آخَرَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَاب قَبلَ أَنْ يُغَرْغِرَ نَفَسُهُ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ" .
عبدالرحمن بن بیلمانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہیں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر بندہ مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ پہلے نے جواب دیا جی ہاں! دوسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے صرف آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ تیسرے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ دوسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر تیسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے چوتھائی دن پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جب تک بندے پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23068]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن البيلماني و هشام بن سعد
حدیث نمبر: 23069
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ"، قَالَ: فَجَاءَ أَعْرَابيَّانِ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّا الْهِلَالَ بالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَأَفْطَرُوا .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے ماہ رمضان کے ٣٠ ویں دن کا بھی روزہ رکھا ہوا تھا کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل رات انہوں نے عید کا چاند دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23069]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23070
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" .
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے اور ہر مہینے تین روزے رکھنا سینے کے کینے کو دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23070]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23071
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا" نَهَى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23071]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح