مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23112
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: أَبو عَقِيلٍ أَخْبرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ سَابقَ بنَ نَاجِيَةَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ الْبرَاءِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَقُولُ إِذَا أَصْبحَ وَإِذَا أَمْسَى: رَضِيتُ باللَّهِ رَبا، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبحَ، وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23112]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 23113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ برَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا تَدَعُوهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23113]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبي، وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي، وَبارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي" ، ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ، فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
حمید بن قعقاع ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاء میں یوں فرماتے تھے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما ذاتی طور پر مجھے کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما دوبارہ تاک لگا کر تحقیق کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی یہی دعا کرتے ہوئے سنائی دیئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23114]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حميد، وقد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 23115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ أَبي حَصْبةَ ، أَوْ ابنِ حَصْبةَ، عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُب، فَقَالَ: " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوب؟"، قَالُوا: الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ، فَقَالَ:" الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا"، قَالَ:" تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ؟"، قَالُوا: الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ، قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الَّذِي لَهُ مَالٌ، فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا الصُّرَعَةُ؟"، قال: قَالُوا: الصَّرِيعُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الرَّجُلُ يَغْضَب فَيَشْتَدُّ غَضَبهُ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، وَيَقْشَعِرُّ شَعَرُهُ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبهُ" .
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے وہ بھی حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ " رقوب " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ " کامل رقوب " کا لفظ دہرا کر فرمایا کہ یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو لیکن وہ اس حال میں فوت ہوجائے کہ ان میں سے کسی کو آگے نہ بھیجے پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ " صعلوک " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس کچھ بھی مال و دولت نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کامل صعلوک " وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو لیکن وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجاہو پھر پوچھا کہ " صرعہ " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا وہ پہلوان جو کسی کو پچھاڑ دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کامل صرعہ " یہ ہے کہ انسان کو غصہ آئے اور اس کا غصہ شدید ہو کر چہرہ کا رنگ سرخ ہوجائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23115]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
حدیث نمبر: 23116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بنِي لَيْثٍ، قَالَ: أَسَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنتُ مَعَهُمْ، فَأَصَابوا غَنَمًا، فَانْتَهَبوهَا، فَطَبخُوهَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النُّهْبى، أَوْ النُّهْبةَ، لَا تَصْلُحُ، فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ" .
بنولیث کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے قید کرلیا میں ان کے ساتھ ہی تھا کہ انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ ملا انہوں نے اس میں لوٹ مار کی اور اس کو پکانے لگے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوٹ مار تو صحیح نہیں ہے اس لئے اپنی ہانڈیاں الٹ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23116]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْمِنْهَالِ ، أَوْ ابنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ . قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَبي الْمِنْهَالِ بنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْلَمَ: " صُومُوا الْيَوْمَ"، قَالُوا: إِنَّا قَدْ أَكَلْنَا، قَالَ:" صُومُوا بقِيَّةَ يَوْمِكُمْ" ، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
ابوالمنہال خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23117]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن المنهال
حدیث نمبر: 23118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بنَ عُثْمَانَ بنِ حُنَيْفٍ ، حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ " فَبالَ، فَأَتَى بمَاءٍ، فَهَالَ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهَا مَرَّةً، وَعَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً، وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً بيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا" ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: الْتَفَّ إِصْبعُهُ الْإِبهَامُ.
فیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا پھر پانی پیش کیا گیا جسے برتن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر بہایا اور اسے ایک مرتبہ دھویا ایک مرتبہ چہرہ دھویا ایک مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے ایک اور مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں دھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23118]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمارة بن عثمان، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 23119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجَ بنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ وَكَانَ إِمَامَهُمْ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبيهِ ، وَكَانَ يَحُجُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَجَّاجٌ: أُرَاهُ عَبدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23119]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج
حدیث نمبر: 23120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، أَخْبرَنِي عُبيْدٌ الْمُكْتِب ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا عَمْرٍو الشَّيْبانِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبةُ: أَوْ قَالَ: " أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھنا ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23120]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23121
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ رَباحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَاب أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْسَنَ ابنُ الْخَطَّاب" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی تو اس کے بعد ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ کیونکہ اس سے پہلے اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب نے عمدہ بات کہی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23121]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح