مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23132
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، أَخْبرَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِب النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبهُ أَبو هُرَيْرَةَ أَرْبعَ سِنِينَ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَمَشَّطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبولَ فِي مُغْتَسَلِهِ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا" .
حمید حمیری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت پائی تھی، انہوں نے تین باتوں سے زیادہ کوئی بات مجھ سے نہیں کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے بچائے ہوئے پانی سے غسل کرسکتا ہے لیکن عورت مرد کے بچائے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور روزانہ کنگھی (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23132]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23133
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبهُمَا فَأَحِبهُمَا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جسم کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کو چمٹاتے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23133]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23134
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَقَالَ:" لَا أُحِب الْعُقُوقَ"، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ: " مَنْ وُلِدَ لَهُ، فَأَحَب أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23134]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الضمري
حدیث نمبر: 23135
حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابنَ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعيد بنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَب فِي سَبعَةِ أَمْعَاءٍ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَب فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں سے میں پیتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23135]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23136
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بنِ خَوَّاتِ بنِ جُبيْرٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمِ الرِّقاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ" ، قَالَ مَالِكٌ: وَهَذَا أَحَب مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے " جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تھی " مروی ہے کہ ایک گروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے حتیٰ کہ پیچھے والوں نے اپنی نماز مکمل کی اور واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں سے باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی پھر بیٹھے رہے حتیٰ کہ انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساتھ لے سلام پھیر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23136]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4129، م: 842
حدیث نمبر: 23137
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا ابنُ أَبي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، قَالَ: أَخْبرَنِي ابنُ عَمٍّ لِي، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا، وَأَقْلِلْ، لَعَلِّي أَعْقِلُهُ، قَالَ: " لَا تَغْضَب"، قَالَ: فَعُدْتُ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَعُودُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَغْضَب" .
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچازاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23137]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23138
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ مُوسَى بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بنَ كَعْب وَهُوَ يَسْأَلُ عَبدَ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبرْنِي مَا سَمِعْتَ أَباكَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ أَبي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يَلْعَب بالنَّرْدِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي" .
محمد بن کعب (رح) نے ایک مرتبہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنی ہو تو مجھے بھی سنائیے انہوں نے اپنے والد صاحب کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے پھر کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو قے اور خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23138]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن عبدالرحمن، واختلف عليه فى إسناده
حدیث نمبر: 23139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ فِي يَدِهِ، أَوْ فِي يَدِ السُّلَمِيِّ، فَقَالَ: " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإيمانِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ" .
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23139]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23140
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " صَلُّوا فِي الرِّحَالِ" .
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23140]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، الرجل المبهم هو صحابي الذى روى عنه عمرو بن أوس
حدیث نمبر: 23141
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، حَدَّثَتْنِي مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ صَاحِب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بعْضِ أَزْوَاجِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَعَا بهَا، فَوَضَعَهَا عَلَى بثْرَةٍ بيْنَ أَصَابعِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبيرِ، وَمُكَبرَ الصَّغِيرِ، أَطْفِهَا عَنِّي" , فَطُفِئَتْ .
حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " ذریرہ " نامی خوشبو ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پھنسیوں پر لگانے لگے پھر یہ دعا کی اے بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے اللہ! اس پھنسی کو دور فرما چناچہ وہ پھنسیاں دور ہوگئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23141]
حکم دارالسلام: إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها