🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1122. حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23845
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" ، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ؟ قَالَ الْحَسَنُ.
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23845]

حکم دارالسلام: إسناده منقطع، الحسن لم يدرك سعدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23846
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ" .
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں انہوں نے منت مان رکھی تھی کیا ان کی طرف سے میرا کسی غلام کو آزاد کرنا کفایت کر جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23846]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي رواية سليمان بن كثير عن الزهري مقال، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23847
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الصَّرَّافِ أَوْ هُوَ سَعِيدٌ الصَّرَّافُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ، حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ" ، قَالَ عَفَّانُ: وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً وَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ، أَمَلَّهُ عَلَيَّ أَوَّلًا عَلَى الصِّحَّةِ.
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصار کا یہ قبیلہ ایک آزمائش ہے یعنی ان سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے نفرت نفاق کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23847]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن أبى شميلة و من فوقه مستورون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں