🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا: اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25898]

حکم دارالسلام: إسناده حسن إن صح سماع البهي من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25899
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِهِمْ , فَقَالَ " أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟ حَوِّلُوا مَقْعَدِي قِبَلَ الْقِبْلَةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25899]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، خالد بن أبى الصلت لم يسمع من عراك وهو ضعيف أيضا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25900
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا بَدَّنَ وَلَحُمَ , صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , قَالَ عَفَّانُ فَلَمَّا لَحُمَ وَبَدَّنَ" ..
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25900]

حکم دارالسلام: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25901
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.

حکم دارالسلام: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25902
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ , اغْتَسَلَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25902]

حکم دارالسلام: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25903
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْبَجَلِيُّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَةَ , فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ إِلَّا جَالِسًا , فَكَيْفَ تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِهِ قَائِمًا" .
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سائب نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں صرف بیٹھ کر ہی نماز پڑھ سکتا ہوں تو آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25903]

حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر فيه ضعف وقد اختلف عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25904
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25904]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25905
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 فوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا , قَالَتْ: " بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي , إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا , يُهِلُّوا لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ , وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا والْمَرْوَةِ , فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , قَالتَ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا , فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا" .
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجھے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے پھر آیت اس طرح ہوتی " فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے لوگ " مناۃ " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25905]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَفِي الثَّانِيَةَ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , و َالْمُعَوِّذَتَيْنِ" .
عبدالعزیز بن جریخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا پہلی رکعت میں " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" دوسری میں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور تیسری میں " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " اور معوذتین کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25906]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: والمعوذتين، وهذا إسناد ضعيف عبدالعزيز بن جريج، ثم إنه لم يسمع من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: " كَانَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا" , وَسَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَهْرَ رَمَضَانَ" .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر طویل نماز پڑھتے تھے، جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے، پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25907]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں