🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1174. حَدِيثُ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26453
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ ، عن بعض أزَوْاج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ , أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26453]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26454
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَوْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26454]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26455
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ، عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ , أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26455]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26456
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ ابْنَةَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ، عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْهُمَا كِلْتَيْهِمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26456]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1490
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26457
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الصِّيَامَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَا صِيَامَ لَهُ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا روزہ فجر کے وقت کے ساتھ جمع نہ ہوا تو اس کا روزہ نہیں ہوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26457]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد سمع منه الحسن بعد احتراق كتبه ، ثم إنه اختلف عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26458
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ وَهُوَ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ، خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، فَيُصِيبَهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ كُلَّهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے مشرق سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکرکا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبردے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو اس لشکر میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آفت تو سب پر آئے گی البتہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26458]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سلمة وعنعنة ابن إسحاق وجهالة عبدالرحمن بن موسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26459
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَامَ عَاشُورَاءَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ چار چیزیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ترک نہیں فرماتے تھے دس محرم کا روزہ عشرہ ذی الحجہ کے روزے ہر مہینے میں تین روزے اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26459]

حکم دارالسلام: حديث ضعيف دون قوله: و الركعتين قبل الغداة، فصحيح، وفي هذا الإسناد أبو إسحاق الأشجعي، وهو مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26460
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روہ رکھتے تھے جمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26460]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال سواء الخزاعي وانقطاع بين عاصم وسواء الخزاعي، وعاصم بن أبى النجود تكلموا فى حفظه، وقد اضطرب فى هذا الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26461
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِطَعَامِهِ وَطُهُورِهِ، وَصَلَاتِهِ وَثِيَابِهِ، وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے وضو کرنے کپڑے پہننے اور لینے دینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26461]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عاصم فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26462
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، وَقَالَ:" رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ" ثَلَاثًا .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگار مجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26462]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال سواء الخزاعي وانقطاع بين عاصم و سواء الخزاعي، وعاصم بن أبى النجود تكلموا فى حفظه، وقد اضطرب فى هذا الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں