مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1174. حَدِيثُ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ , لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف مختصر سی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26433]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26434
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الطَّالَقَانِيَّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت اذان اور اقامت کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26434]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 618، م: 723
حدیث نمبر: 26435
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: " أَحِلَّ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ" , وقَالَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ.
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع میں مجھے اپنے حج کا احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26435]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1697، م: 1229
حدیث نمبر: 26436
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ , أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ لَهُ فُلَانَةُ: فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟ فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سرکے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26436]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4398، م: 1229
حدیث نمبر: 26437
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ بِعُمْرَةٍ، قُلْنَ: فَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ وَلَبَّدْتُ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي" , وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ:" أَنْحَرَ هَدِيَّتِي".
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو احرام کھول لینے کا حکم دیا تو کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ لوگ تو اپنے احرام کو کھول چکے ہیں لیکن آپ اپنے عمرے کے احرام سے نہیں نکلے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میں نے ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ لیا تھا اور اپنے سر کے بالوں کو جمالیا تھا اس لئے میں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حج کے احرام سے فارغ نہ ہوجاؤں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26437]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1566، م: 1229
حدیث نمبر: 26438
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ فِي بَيْتِي يُخَفِّفُهُمَا جِدًّا" , قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُخَفِّفُهُمَا كَذَلِكَ.
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ طلوع صبح صادق کے وقت میرے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26438]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 618، م: 723، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26439
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى النِّسْوَةِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْتُلُ الْحُدَيَّا، وَالْغُرَابَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ" .
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا یا رسول اللہ احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26439]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1828، م: 1200
حدیث نمبر: 26440
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71؟ قَالَ: فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72 .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونیوالا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہوگا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26440]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الأعمش، وقد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 26441
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، أَوْ بِعَامَيْنِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، وَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26441]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 733
حدیث نمبر: 26442
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26442]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 733