🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26805
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26805]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 333، م: 513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26806
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ، إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي طَرَفُ ثَوْبِهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26806]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 379، م: 513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26807
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَإِذَا سَجَدَ، أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26807]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 518، م: 513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ، فَيَسْجُدُ، فَيُصِيبُنِي ثَوْبُهُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26808]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 333، م: 513 وهذا إسناد خالف فيه محمد بن فضيل الرواة عن الشيباني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26809
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ أَبِي: وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ اسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَهْمَةٌ , أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ تَجَافَى" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے اور وہاں سے آگے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں کو مزید پہلوؤں سے جدا کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26809]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 496
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26810
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ ، فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ , قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ، فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ" ، أَيْ بُنَيَّ , وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟!.
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26810]

حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26811
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ , سَمِعَتْهُ مِنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَبْسُطُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْرَةَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَيْهَا" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26811]

حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26812
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكَّارٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ، وَلَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا، اخْتَرْتُهُ , ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيلٍ ، قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيل ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , وقَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ، فَصَاعِدًا.
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26812]

حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فقد اختلف فيه على أبى المليح، وعبدالله بن سليل مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26813
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَتِفٍ، ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور تازہ وضو نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26813]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، ، خ: 210، م: 356 وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26814
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ ابْنَةُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ؟ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَلَا تُخْبِرِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ، فَأَخْبَرَتْهُ: أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَتَرَكَهُ , قَالَ خَالِدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ" , قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ، فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ , قَالَ: وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ وَأَظُنُّ أَنَّ الْأَصَمَّ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ.
حضرت خالد بن ولید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی علیہ السلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث جو ان کی خالہ تھیں، کے گھر داخل ہوئے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا جو نجد سے ام حفید بنت حارث لے کر آئی تھی، جس کا نکاح بنو جعفر کے ایک آدمی سے ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ یہ کیا ہے؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اسے ایک طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26814]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5400، م: 1946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں