مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26825]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26826
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ , لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ، فَتَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِي، فَكُلِي مَا صَنَعْتُ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ" .
ابراہیم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت بہت زیادہ بیمار ہوگئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ نے مجھے شفاء عطاء فرمادی تو میں سفر کر کے بیت المقدس جاؤں گی اور وہاں نماز پڑھوں گی، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ تندرست ہوگئی، اس نے سفر کے ارادے سے تیاری شروع کردی اور حضرت میمونہ کی خدمت میں الوداعی سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی اور انہیں اپنے ارادے سے بھی مطلع کیا انہوں نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور میں نے جو کھانا پکایا ہے وہ کھاؤ اور مسجد نبوی میں نماز پڑھ لو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26826]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على ليث بن سعد
حدیث نمبر: 26827
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کیا انسان ہر لمحے موزوں پر مسح کرسکتا ہے؟ کہ اسے اتارنا ہی پڑے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26827]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه من أجل عمر بن إسحاق بن يسار
حدیث نمبر: 26828
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَهَا حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، فَدَفَنَهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا، فَنَزَلْنَا فِي قَبْرِهَا، أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ .
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح بھی غیر محرم ہونے کی صورت میں کیا تھا اور ان کے ساتھ تخلیہ بھی غیر محرم ہونے کی حالت میں کیا تھا اور ان کا انتقال سرف نامی جگہ میں ہوا تھا ہم نے انہیں اسی جگہ دفن کیا تھا جس جگہ ایک خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ تخلیہ فرمایا تھا اور ان کی قبر میں میں اور حضرت ابن عباس اترے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26828]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1411
حدیث نمبر: 26829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ، وَظَهَرَتْ الرَّغْبَةُ، وَاخْتَلَفَتْ الْإِخْوَانُ، وَحُرِّقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ!" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جبکہ دین مختلط ہوجائے گا خواہشات کا غلبہ ہوگا، بھائی بھائی میں اختلاف ہوگا اور خانہ کعبہ کو آگ لگادی جائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26829]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26830
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا، فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا، فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک اس میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوگی اور جب اس میں ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے تو پھر وہ وقت قریب ہوگا جب اللہ کا عذاب ان سب کو گھیر لے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26830]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 26831
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , وَعَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ، جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26831]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 497
حدیث نمبر: 26832
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ازعصر دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھ لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26832]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلةالسدوسي، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26833
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُمَيْعٍ أَوْ سُبَيْعٍ الشَّكُّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا" , قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قریش کے کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کی کھال ہی اتار لیتے (تو کیا حرج تھا) انہوں نے عرض کیا کہ یہ بکری مردار ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور درخت سلم (کیکر کی مانند ایک درخت) کے پتے پاک کردیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26833]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة عبدالله بن مالك، وأمه
حدیث نمبر: 26834
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ ، أَنَّ أُمَّهُ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ جَالِسَةٌ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ دَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: مَا لَكَ شَعِثًا؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟! لَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ مُتَّكِئَةٌ حَائِضٌ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا حَائِضٌ، فَيَتَّكِئُ عَلَيْهَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَاعِدَةً، وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَتَّكِئُ فِي حِجْرِهَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ فِي حِجْرِهَا , وَتَقُومُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فِي مُصَلَّاهُ، وقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: خُمْرَتَهُ , فَيُصَلِّي عَلَيْهَا فِي بَيْتِي ، أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟.
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26834]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ