🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27580
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً يُحَدِّثُهُمْ، عَنْ أَعْوَرِ الدَّجَّالِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ"، وَكَانَتْ كَلِمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ:" مَهْيَمْ"، وَزَادَ فِيهِ:" فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ قَوْلِي، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ جو شخص میری مجلس میں حاضر ہو اور میری باتیں سنے، تو تم میں سے حاضرین کو غائبین تک یہ باتیں پہنچا دینی چاہئیں اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ صحیح سالم ہیں، وہ کانے نہیں ہیں، جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہو گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، جسے مومن خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہیں پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27580]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، و بعضه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27581
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَرْفَأُ دَمْعُكِ , وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ؟، فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی والدہ رونے چلانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے آنسو تھم کیوں نہیں رہے اور تمہارا غم دور کیوں نہیں ہو رہا جبکہ تمہارا بیٹا وہ پہلا آدمی ہے جسے دیکھ کر اللہ کو ہنسی آئی ہے اور اس کا عرش ہل رہا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27581]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27582
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27582]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن ثبت سماع مجاهد من أسماء بنت يزيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27583
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ:" لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ، وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا"، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ لَيَقُلْنَ , وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِثْلُ الشَّيْطَانِ، لَقِيَ شَيْطَانَةً فِي طَرِيقٍ، فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت بہت سے مرد اور عورت جمع تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ ایک زمانے میں مرد یہ بتانے لگے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا کرتا ہے اور عورت یہ بتانے لگے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ لوگ اس پر خاموش رہے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ باتیں تو عورتیں کہتی ہیں اور مرد بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شیطان کسی شیطانیہ سے راستے میں ملے اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے بدکاری کرنے لگے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27583]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ولجهالة حفص السراج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27584
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27584]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محمود بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27585
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِى ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ"، قَال: قُلْتُ: مَا يَعْنِي؟ قَالَ: الْغِيلَةُ، يَأْتِي الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ .
حضرت اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27585]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده ، ثم إنه معارض بحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27586
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، وَذَكَرَ الْجَهْمِيَّةَ، فقال: " إِنَّمَا يُحَاوِلُونَ أَنْ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ" .
حماد بن زید نے ایک مرتبہ فرقہ جہمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آسمان میں کچھ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27586]

حکم دارالسلام: هذا اثر صحيح الي حماد بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27587
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُوُفِّيَ يَوْمَ تُوُفِّيَ، وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر ایک یہودی کے پاس ایک وسق جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27587]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: "بوسق من شعير"ر، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27588
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ , آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ هُوَ بَيْتُهُ، يَضْطَجِعُ فِيهِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً، فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنَامُ، هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ؟، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ؟"، قَالَ: إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي , فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ، قَالَ:" أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ، حَتَّى تَلْقَانِي، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بحوالہ ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آ کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھا ہو کر اٹھ بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے؟ عرض کیا: میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ میں شام چلا جاؤں گا جو ارض ہجرت اور ارض محشر اور ارض انبیاء ہے، میں اس کی رہائش اختیار کر لوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا: میں دوبارہ وہاں چلا جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر دوبارہ وہاں سے نکال دیا گیا؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: ابوذر! درگزر سے کام لو، وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، یہاں تک کہ تم اس حال میں مجھ سے آ ملو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27588]

حکم دارالسلام: اسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقصة السمع والطاعة صحيحة ثابتة من احاديث اخري، انظر: 21428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27589
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حدثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ ، تُحَدِّثُ، زَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ، قَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ"، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ كُفْرَانِ اللَّهِ، قَالَ: " بَلَى، إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا، ثُمَّ يُزَوِّجُهَا اللَّهُ الْبَعْلَ، وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ، وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ، فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ، فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنَعَّمِينَ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27589]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں