🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27590
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ مِنْ فَوْقِ فَرَسِهِ" ، قَالَ عَلِيٌّ: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27590]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مهاجر، وقد انفرد به، ومثله لا يحتمل تفرده، ثم إنه معارض بحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27591
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جِئْتُهُ، فَدَعَوْتُهُ لِجِلْوَتِهَا، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا، فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَا، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَانْتَهَرْتُهَا، وَقُلْتُ لَهَا: خُذِي مِنْ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذَتْ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِي تِرْبَكِ"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ خُذْهُ، فَاشْرَبْ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ، فَأَخَذَهُ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ، وَأَتْبَعُهُ بِشَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي:" نَاوِلِيهِنَّ"، فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا"، فَهَلْ أَنْتِ مُنْتَهِيَةٌ أَنْ تَقُولِي لَا أَشْتَهِيهِ؟، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، لَا أَعُودُ أَبَدًا .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، میرے ساتھ کچھ اور عورتیں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خود نوش فرمایا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ پیالہ پکڑا دیا، وہ شرما گئیں، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ واپس نہ لوٹاؤ، بلکہ یہ برتن لے لو، چنانچہ انہوں نے شرماتے ہوئے وہ پیالہ پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا دودھ پی لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے دے دو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ نوش کر کے مجھے پکڑا دیا، میں بیٹھ گئی اور پیالے کو اپنے گھٹنے پر رکھ لیا اور اسے گھمانے لگی تاکہ وہ جگہ مل جائے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہونٹ لگائے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنی سہیلیوں کو دے دو، ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو، اب بھی تم باز آؤ گی یا نہیں؟ میں نے کہا: اماں جان! آئندہ کبھی نہیں کروں گی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27591]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27592
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: " نَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، إِنْ كَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا لَتَكْسِرُ النَّاقَةَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ مائدہ مکمل نازل ہوئی تو ان کی اونٹنی عضباء کی لگام میں نے پکڑی ہوئی تھی اور وحی کے بوجھ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27592]

حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27593
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهِ احْتِسَابًا، كَانَ شِبَعُهُ وَجُوعُهُ، وَرِيُّهُ، وَظَمَؤُهُ، وَبَوْلُهُ، وَرَوْثُهُ، فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ ارْتَبَطَ فَرَسًا رِيَاءً وَسُمْعَةً، كَانَ ذَلِكَ خُسْرَانًا فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ساز و سامان کے طور پر باندھتا ہے اور ثواب کی نیت سے ان پر خرچ کرتا ہے تو ان کا سیر ہونا اور بھوکا رہنا، سیراب ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کا بول و براز تک قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں کامیابی کا سبب ہوگا اور جو شخص ان گھوڑوں کو نمود و نمائش اور اتراہٹ اور تکبر کے اظہار کے لئے باندھتا ہے تو ان کا پیٹ بھرنا اور بھوکا رہنا، سیر ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کو بول و براز قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں خسارے کا سبب ہوگا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27593]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27594
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27594]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27595
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27595]

حکم دارالسلام: حديث حسن بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27596
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53 ," وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا [سورة الزمر آية 53] وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27596]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27597
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ لِتَرْضَى عَنْهُ، أَوْ كَذِبٌ فِي الْحَرْبِ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، أَوْ كَذِبٌ فِي إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ بولنا کسی صورت صحیح نہیں سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27597]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، واختلف فيه على سفيان الثوري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27598
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: كُنَّا فِيمَنْ جَهَّزَ عَائِشَةَ وَزَفَّهَا، قَالَتْ: فَعَرَضَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، فَقُلْنَا: لَا نُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تیار کرنے والی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انہیں پیش کرنے والی میں ہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے دودھ کا پیالہ پیش کیا: تو ہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27598]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27599
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27599]

حکم دارالسلام: حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں