مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27600
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دجال زمین میں چالیس سال تک رہے گا، اس کا ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک جمعہ کے برابر، ایک جمعہ ایک دن کی طرح اور ایک دن چنگاری بھڑکنے کی طرح ہو گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27600]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَخِيَارُكُمْ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَشِرَارُكُمْ الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ، الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے“، پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27601]
حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 27602
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ ، كَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ , إِذْ جَاءَتْهُ خَالَتِي، قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تُسَائِلُهُ وَعَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَسُرُّكَ أَنَّ عَلَيْكِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟!"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا خَالَتِي، إِنَّمَا يَعْنِي سِوَارَيْكِ هَذَيْنِ، قَالَتْ: فَأَلْقَتْهُمَا، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ إِذَا لَمْ يَتَحَلَّيْنَ، صَلِفْنَ عِنْدَ أَزْوَاجِهِنَّ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ:" أَمَا تَسْتَطِيعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَجْعَلَ طَوْقًا مِنْ فِضَّةٍ، وَجُمَانَةً مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ تُخَلِّقَهُ بِزَعْفَرَانٍ، فَيَكُونُ كَأَنَّهُ مِنْ ذَهَبٍ، فَإِنَّ مَنْ تَحَلَّى وَزْنَ عَيْنِ جَرَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ حِرَّ بَصِيصَةٍ، كُوِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان خواتین کو بیعت کے لئے جمع فرمایا، تو اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اپنا ہاتھ آگے کیوں نہیں بڑھاتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، البتہ زبانی بیعت لے لیتا ہوں“، ان عورتوں میں اسماء رضی اللہ عنہا کی ایک خالہ بھی تھیں جنہوں نے سونے کے کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خاتون! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کی چنگاریوں کے کنگن اور انگوٹھیان پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، میں نے اپنی خالہ سے کہا: خالہ! اسے اتار کر پھینک دو، چنانچہ انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کس نے انہیں ان کی جگہ سے اٹھایا ہو اور نہ ہی ہم میں سے کسی نے اس کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی عورت زیور سے آراستہ نہیں ہوتی تو وہ اپنے شوہر کی نگاہوں میں بےوقعت ہو جاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم چاندی کی بالیاں بنا لو اور ان پر موتی لگوا لو اور ان کے سوراخوں میں تھوڑا سا زعفران بھر دو، جس سے وہ سونے کی طرح چمکنے لگے گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27602]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27603
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّبَّاغُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ، لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا، وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ، قَالَ:" صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص شراب پیتا ہے، چالیس دن تک اللہ اس سے ناراض رہتا ہے، اگر وہ اس حال میں مر جاتا ہے تو کافر ہو کر مرتا ہے اور اگر توبہ کر لیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور اگر دوبارہ شراب پیتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» کا پانی پلائے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم کی پیپ۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27603]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: "فإن مات مات كافرا"، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27604
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: انْطَلَقْتُ مَعَ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ قَالَتْ: قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لِي: " أَيَسُرُّكِ أَنْ يُجْعَلَ فِي يَدِكِ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ؟!" فَقُلْتُ لَهَا: يَا خَالَتِي، أَمَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: أَيَسُرُّكِ أَنْ يُجْعَلَ فِي يَدَيْكِ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ، أَوْ قَالَ: قُلْبَانِ مِنْ نَارٍ، قَالَتْ: فَانْتَزَعَتْهُمَا، فَرَمَتْ بِهِمَا، فَلَمْ أَدْرِ أَيُّ النَّاسِ أَخَذَهُمَا؟ .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، انہوں نے سونے کے کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خاتون! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کی چنگاریوں کے کنگن اور انگوٹھیان پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، میں نے اپنی خالہ سے کہا: خالہ! اسے اتار کر پھینک دو، چنانچہ انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کس نے انہیں ان کی جگہ سے اٹھایا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27604]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27605
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ بِقِلَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قُلِّدَتْ مِثْلَهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27605]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محمود بن عمرو، وقد تفرد به
حدیث نمبر: 27606
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ"، وَسَمِعَتْهُ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53"،" وَلَا يُبَالِي، إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا [سورة الزمر آية 53] وَلَا يُبَالِي، إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27606]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، والشطر الأول حسن
حدیث نمبر: 27607
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لإِيلافِ قُرَيْشٍ إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ سورة قريش آية 1 - 2، وَيْحَكُمْ يَا قُرَيْشُ، اعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ قریش پڑھ کر فرمایا: ”ارے قریش کے لوگو! اس گھر کے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا اور خوف کی حالت میں امن عطاء فرمایا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27607]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر ابن حوشب و عبيدالله بن أبى زياد
حدیث نمبر: 27608
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا، أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَذِبٍ فِي الْحَرْبِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ کسی صورت صحیح نہیں، سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27608]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27609
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ بِالْغِيبَةِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن جہنم کی آگ سے آزاد کرے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27609]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن أبى زياد، وشهر بن حوشب