🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

202. ‏(‏201‏)‏ بَابُ اسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِ الْجُنُبِ لِلنَّوْمِ‏.‏
جنبی شخص کا سونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 259
نا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ" . نَاهُ نَصْرُ بْنُ بَحْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" رُبَّمَا تَوَضَّأَ وَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ"، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً
حضرت عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کیسے سوتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح کرلیا کرتے تھے، بعض اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بعض دفعہ وضو کر کے سو جاتے۔ امام صاحب اپنے استاد نصر بن بحر خولانی سے حضرت عبد بن ابی قیس رحمہ اللہ ہی روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نےکہا، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتےاور غسل کرنے سے پہلے سو جاتے۔ تو میں نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اس کام میں وُسعت و سہولت رکھی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ غُسْلِ التَطْهِيرِ وَالِاسْتِحْبَابِ مِنْ غَيْرِ فَرْضٍ وَلَا إِيجَابٍ/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، 218، 259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 982، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں