صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
642. (409) بَابُ النَّاسِي لِصَلَاةِ الْفَرِيضَةِ يَذْكُرُهَا بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا،
فرض نماز کو بھول جانے والے کا بیان جسے نماز کا وقت گزر جانے کے بعد نماز یاد آتی ہے۔
حدیث نمبر: 999
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ؛ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، وَصَلَّى الْغَدَاةَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ، وَكَذَلِكَ فِي خَبَرِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (دوران سفر) رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالا تو ہم سورج طلوع ہونے تک بیدار نہ ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرشخص اپنی سواری کی نکیل پکڑلے (اور چل پڑے) بیشک ہماری اس منزل میں شیطان آگیا ہے۔“ لہٰذا ہم نے حُکم کی تعمیل کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دو رکعتیں سنّت ادا کیں، پھر نماز کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی “ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نبی کریم سے روایت میں یہ الفاظ ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں، پھر فجر کی نماز پڑھی۔ سیدنا عمران بن حسین رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی اسی طرح ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 999]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، ابن الجارود فى "المنتقى"، 266، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، 1118، 1252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 435، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665»