🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

643. (410) بَابُ إِسْقَاطِ فَرْضِ الصَّلَاةِ عَنِ الْحَائِضِ أَيَّامَ حَيْضِهَا
حائضہ عورت سے حیض کے دنوں میں نماز کے ساقط ہونے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1000
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ جَزْلَةٌ: وَبِمَ ذَاكَ؟ قَالَ:" بِكَثْرَةِ اللَّعْنِ، وَكُفْرِكُنَّ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْكُنَّ" قَالَتِ امْرَأَةٌ: مَا نُقْصَانُ عُقُولِنَا وَدِينِنَا؟ قَالَ:" شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ، تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلاثَ أَوِ الأَرْبَعَ لا تُصَلِّي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: اے عورتوں کی جماعت، بیشک تم جہنّم والوں کی اکثریت ہو۔ تو ایک فصیح و بلیغ عورت نے عرض کی کہ اس کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکثرت لعن طعن کرنا اور اپنے خاوند کی ناشکری کرنا۔ (پھر فرمایا) میں کم عقل، ناقص دین والیاں ہونے کے باوجود عقل و دانش اور اہل رائے پر زیادہ غالب تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک عورت نے سوال کیا کہ ہماری کم عقلی اور دین میں نقص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے (یہ کم عقلی کی دلیل ہے) اور تمہارے دین کا نقصان حیض ہے، تم میں سے ایک عورت تین یا چار دن (حیض کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھتی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1000، 2461، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9226، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8984»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں