صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
643. (410) باب إسقاط فرض الصلاة عن الحائض أيام حيضها
حائضہ عورت سے حیض کے دنوں میں نماز کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1000
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ جَزْلَةٌ: وَبِمَ ذَاكَ؟ قَالَ:" بِكَثْرَةِ اللَّعْنِ، وَكُفْرِكُنَّ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْكُنَّ" قَالَتِ امْرَأَةٌ: مَا نُقْصَانُ عُقُولِنَا وَدِينِنَا؟ قَالَ:" شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ، تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلاثَ أَوِ الأَرْبَعَ لا تُصَلِّي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت، بیشک تم جہنّم والوں کی اکثریت ہو۔ تو ایک فصیح و بلیغ عورت نے عرض کی کہ اس کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکثرت لعن طعن کرنا اور اپنے خاوند کی ناشکری کرنا۔ (پھر فرمایا) میں کم عقل، ناقص دین والیاں ہونے کے باوجود عقل و دانش اور اہل رائے پر زیادہ غالب تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔“ ایک عورت نے سوال کیا کہ ہماری کم عقلی اور دین میں نقص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے (یہ کم عقلی کی دلیل ہے) اور تمہارے دین کا نقصان حیض ہے، تم میں سے ایک عورت تین یا چار دن (حیض کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھتی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1000، 2461، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9226، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8984»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1000 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1000
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ حیض میں حائضہ عورت پر نماز اور روزہ واجب نہیں اور اس مسئلے پر اجماع منقول ہے۔ [نیل الأوطار: 301/1]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ حالتِ حیض میں حائضہ عورت پر نماز اور روزہ واجب نہیں اور اس مسئلے پر اجماع منقول ہے۔ [نیل الأوطار: 301/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1000]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1000 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي