🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ النحل میں) کہ ”ہم تو جب کوئی چیز بنانا چاہتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں ہو جا وہ ہو جاتی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7459
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ".
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ دوسروں پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ «أمر الله» یعنی (قیامت) آ جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7459]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں سے ایک گروہ دوسرے لوگوں پر غالب رہے گا یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا امر، یعنی قیامت آ جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7459]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7460
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ مَا يَضُرُّهُمْ مَنْ كَذَّبَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ"، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ: سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُ: وَهُمْ بِالشَّأْمِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا، يَقُولُ: وَهُمْ بِالشَّأْمِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا، انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ قرآن و حدیث پر قائم رہے گا، اسے جھٹلانے والے اور مخالفین کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ «أمر الله» (قیامت) آ جائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ میں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ گروہ شام میں ہو گا۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ گروہ شام میں ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7460]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اسے جھٹلانے والے اور دیگر مخالفین کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ مالک بن یخامر نے کہا: میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ گروہ شام میں ہوگا، اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مالک بن یخامر، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ وہ گروہ شام میں ہوگا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7460]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7461
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، کہا ہم سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس رکے، وہ اپنے حامیوں کے ساتھ مدینہ میں آیا تھا اور اس سے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے تو میں یہ بھی تجھ کو نہیں دے سکتا اور تمہارے بارے میں اللہ نے جو حکم دے رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو نے اسلام سے پیٹھ پھیری تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7461]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کذاب کے پاس رکے جبکہ وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ تھا، آپ نے اس سے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ (لکڑی) کا ٹکڑا مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہ دوں گا، اور تیرے متعلق اللہ کا جو حکم ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو نے (اسلام سے) روگردانی کی تو اللہ تجھے تباہ و برباد کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7461]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7462
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حَرْثِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَرْنَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَسْأَلُوهُ أَنْ يَجِيءَ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنَسْأَلَنَّهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ؟، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85، قَالَ الْأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی کا سہارا لیتے جاتے تھے، پھر ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ کچھ یہودیوں نے مشورہ دیا کہ نہ پوچھو، کہیں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کا (ان کی زبان سے سننا) تم پسند نہ کرو۔ لیکن بعض نے اصرار کیا کہ نہیں! ہم پوچھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا: اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتوا من العلم إلا قليلا‏» اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں اس کا علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ اعمش نے کہا کہ ہماری قرآت میں اسی طرح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7462]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ مدینہ طیبہ کے ایک کھیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کا سہارا لیے جا رہے تھے۔ اتنے میں ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپس میں کہا: ان سے روح کے متعلق پوچھو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ان سے نہ پوچھو، مبادا ایسا جواب دیں جو تمہیں ناگوار ہو، اس کے باوجود کچھ یہودیوں نے کہا: ہم ضرور پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی نے اٹھ کر کہا: اے ابو القاسم! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس (کو جواب دینے) سے خاموش رہے تو مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 85] جس کا ترجمہ ہے: وہ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے روح میرے رب کا امر ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اعمش نے کہا: ہماری قراءت میں اسی طرح ہے یعنی «أُوتُوا» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7462]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں