🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب قول الله تعالى: {إنما قولنا لشيء} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ النحل میں) کہ ”ہم تو جب کوئی چیز بنانا چاہتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں ہو جا وہ ہو جاتی ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7461
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، کہا ہم سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس رکے، وہ اپنے حامیوں کے ساتھ مدینہ میں آیا تھا اور اس سے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے تو میں یہ بھی تجھ کو نہیں دے سکتا اور تمہارے بارے میں اللہ نے جو حکم دے رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو نے اسلام سے پیٹھ پھیری تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7461]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کذاب کے پاس رکے جبکہ وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ تھا، آپ نے اس سے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ (لکڑی) کا ٹکڑا مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہ دوں گا، اور تیرے متعلق اللہ کا جو حکم ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو نے (اسلام سے) روگردانی کی تو اللہ تجھے تباہ و برباد کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7461]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فاضل
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن النوفلي
Newعبد الله بن عبد الرحمن النوفلي ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← عبد الله بن عبد الرحمن النوفلي
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7461
لو سألتني هذه القطعة ما أعطيتكها ولن تعدو أمر الله فيك ولئن أدبرت ليعقرنك الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7461 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7461
حدیث حاشیہ:
مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور بہت سےلوگ اس کے پیرو ہوگئے تھے۔
وہ لوگوں کو شعبدہ دکھا دکھا کر گمراہ کرتا تھا۔
وہ مدینہ آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ اگر آپ اپنے بعد مجھ کوخلیفہ کر جائیں تومیں اپنے ساتھیوں کےساتھ آپ پرایمان لے آتا ہوں۔
اس وقت آ پ نے یہ حدیث فرمائی کہ خلافت تو بڑی چیز ہے میں ایک چھڑی کا ٹکڑا بھی تجھ کو نہیں دوں کا۔
آخر مسیلمہ اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا اور یمامہ کے ملک میں اس کی جماعت بہت بڑھ گئی۔
حضرت صدیق اکبر نے اپنے عہدخلافت میں اسی پر لشکر کشی کی جس میں آخر مسلمان غالب آئے اوروحشی نے اسے قتل کیا، اس کے سب ساتھی تتر بتر ہوگئے۔
حدیث میں امراللہ کا لفظ آیا ہے یہی باب سے مناسبت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7461]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7461
حدیث حاشیہ:

مسیلمہ کذاب نے یمامہ کے علاقے میں نبوت کا دعوی کیا اور یہ انتہائی شعبدہ باز انسان تھا۔
بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے پیروکار ہو گئے۔
وہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر مدینہ طیبہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اگر آپ مجھے اپنے بعد خلیفہ نامزد کر دیں تو میں اپنے ساتھیوں سمیت آپ پر ایمان لے آتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس وقت کھجور کی چھڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خلافت تو بڑی چیز ہے میں تجھے چھڑی کا یہ ٹکڑا بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
(صحیح البخاري، حدیث4373)
آخر کار مسیلمہ کذاب اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس یمامہ چلا گیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس کے خلاف لشکر کشی کی جس میں مسلمان غالب آئے اور اسے حضرت وحشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتل کر کے جہنم پہنچا یا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3620)
اس حدیث میں ہے کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تیرے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کر رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس جملے سے عنوان ثابت کیا ہے یعنی تیرے وجود سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تیری بد بختی اور شقاوت کا جو فیصلہ کیا ہے تو اس سے سر موانحراف نہیں کرے گا۔
اس مقام پر امراللہ سے مراد اس کا کونی اور قدری امر ہے شرعی اور تکلیفی امر مراد نہیں ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان 242/2)
دراصل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس عنوان اور پیش کردہ احادیث سے معتزلہ کی تردید کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا امر جو اللہ تعالیٰ کے کلام سے عبارت ہے وہ اس کا پیدا کیا ہوا ہے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے پیش کردہ آیت کریمہ میں اس امر اور قول سے خود کو موصوف کیا ہے تاہم یہ اسلوب اور انداز سرا سر مجاز ہے حقیقت پر مبنی نہیں جبکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام جس سے ذات باری تعالیٰ متصف ہے وہ غیر مخلوق ہے تاہم اس کا تعلق مخلوق سے حادث ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے پر موقوف ہے۔
(عمدة القاري: 856/18)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7461]

Sahih Bukhari Hadith 7461 in Urdu