صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الدُّعَاءِ إِلَى الشَّهَادَتَيْنِ وَشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ:
باب: لوگوں کو شہادتین کی طرف بلانے اور اسلام کے ارکان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 19 ترقیم شاملہ: -- 121
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رُبَّمَا، قَالَ وَكِيعٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
ابن ابی شیبہ، ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی۔ ابوبکر نے کہا: وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی (ابوبکر نے کہا: بعض اوقات وکیع کہا) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور فرمایا: ”تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ اس میں (تمہاری) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکاۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں کو واپس کیا جائے گا، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا (زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس (بددعا) کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 121]
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور فرمایا: ”تم اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جا رہے ہو تو انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کا مستحق نہیں اور میں صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ اس کو تسلیم کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے محتاجوں کی طرف لوٹایا جائے گا۔ پھر جب وہ اس کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے دور رہنا (زکوٰۃ میں بہترین مال وصول نہ کرنا) اور مظلوم کی دعا (بد دعا) سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب (پردہ) حائل نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 19
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: وجوب الزكاة برقم (1395) وفي الزكاة، باب: اخذ الصدقة من الاغنياء، وترد فى الفقراء حيث كانوا برقم (1458) وفى المظالم، باب: الاتقاء والحذر من دعوة المظلوم برقم (2448) وفى المغازي، باب: بعث ابي موسى ومعاذ بن جبل رضى الله عنه الى اليمن قبل حجة الوداع برقم (4347) وفي التوحيد، باب: ما جاء فى دعاء النبى صلى الله عليه وسلم امته الى توحيد الله تبارك وتعالى برقم (7371)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 19 ترقیم شاملہ: -- 122
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
بشر بن سری اور ابوعاصم نے زکریا بن اسحاق سے خبر دی کہ یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے۔“ آگے وکیع کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 122]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم جلد کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے۔“ آگے وکیع کی روایت جیسے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 19
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (121)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 19 ترقیم شاملہ: -- 123
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ".
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، انہوں نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے (جو) اہل کتاب ہیں۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تم ان کو دعوت دو گے، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے (مالداروں کے) اموال سے لے کر ان کے فقراء کو دی جائے گی۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے (زکاۃ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 123]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”تم اہل کتاب کے لوگوں کے پاس جاؤ گے، تو انہیں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دینا۔ جب وہ اللہ کی معرفت حاصل کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کی تعمیل کر لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالوں یعنی ان کے اغنیاء سے لی جائے گی اور ان کے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ پس جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور ان کے نفیس نفیس مال سے بچنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 19
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (121)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة