🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب الْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَائِعِ الدِّينِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ وَالسُّؤَالِ عَنْهُ وَحِفْظِهِ وَتَبْلِيغِهِ مَنْ لَمْ يَبْلُغْهُ 
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 115
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، الإِيمَانِ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، فَقَالَ: " شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ "، زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَقَدَ وَاحِدَةً.
خلف بن ہشام نے بیان کیا (کہا) ہمیں حماد بن زید نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: (الفاظ انہی کے ہیں) ہمیں عباد بن عباد نے ابوجمرہ سے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا۔ وہ (لوگ) کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ (یعنی) بنو ربیعہ کا یہ قبیلہ ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان (قبیلہ) مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا بحفاظت آپ تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ حکم دیجیے جس پر خود بھی عمل کریں اور جو پیچھے ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: (جن کا حکم دیتا ہوں وہ ہیں:) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے ایمان باللہ کی وضاحت کی، فرمایا: اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالیقین اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور جو مال غنیمت تمہیں حاصل ہو، اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا۔ اور میں تمہیں روکتا ہوں کدو کے برتن، سبز گھڑے، لکڑی کے اندر سے کھود کر (بنائے ہوئے) برتن اور ایسے برتنوں کے استعمال سے جن پر تارکول ملا گیا ہو۔ خلف نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: اس (سچائی) کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اسے انہوں نے انگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 115]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ قبیلے کے افراد ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلہ جو کافر ہے، حائل ہے اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ لہٰذا آپ ہمیں کسی ایسے امر (حکم، بات) کا حکم دیجیے جس پر ہم عمل پیرا ہوں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: 1۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ کی تفسیر کی، فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں۔ 2۔ نماز قائم کرنا۔ 3۔ زکوٰۃ ادا کرنا۔ 4۔ مال غنیمت جو تمہیں حاصل ہو اس سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ اور میں تمہیں دباء (کدو کا تونبہ)، سبز گھڑے، لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ خلف نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کا اقرار۔ اور اس کو آپ نے انگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: اداء الخمس من الايمان برقم (53) وفى المواقيت، باب: ﴿ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴾ برقم (523) وفي الزكاة باب: وجوب الزكاة برقم (1398) وفى فرض الخمس، باب: اداء الخمس من الدين برقم (3095) وفى المناقب، باب: 5 - برقم (3510) وفي المغازي باب: وقد عبد القيس برقم (4368 و 4369) وأخرجه ايضا فى الادب، باب: قول الرجل: مرحبا برقم (6176) وفى اخبار الاحاد، باب: وصاة النبى صلى الله عليه وسلم وفود العرب ان يبلغوا من ورائهم برقم (7266) وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ﴾ برقم (7556)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَة، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وفدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ الْوَفْدُ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ، أَوْ بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَى، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ، مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، قَالَ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ: وَقَالَ: احْفَظُوهُ، وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: مَنْ وَرَاءَكُمْ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ.
شعبہ نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور (دوسرے) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا، ان کے پاس ایک عورت آئی، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا وفد ہے؟ (یا فرمایا: یہ کون لوگ ہیں؟) انہوں نے کہا: ربیعہ (قبیلہ سے ہیں)۔ فرمایا: اس قوم (یا وفد) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا، ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ (حائل) ہے، ہم (کسی) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے (گھروں میں) پیچھے لوگوں کو (بھی) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے روکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: جانتے ہو، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن (استعمال کرنے) سے منع کیا۔ (شعبہ نے کہا:) ابوجمرہ نے شاید نقیر (لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن) کہا یا شاید مقیر (تارکول ملا ہوا برتن) کہا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے (والوں کو) بتا دو۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ( «من ورائكم» کے بجائے) «من وراءكم» (ان کو (بتاؤ) جو تمہارے پیچھے ہیں) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں (بلکہ نقیر کا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 116]
ابو جمرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمان تھا۔ ان کے پاس ایک عورت ان سے گھڑے کے نبیذ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ وفد کون ہے؟ یا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ فرمایا قوم یا وفد کو خوش آمدید! جسے رسوائی ذلت اور شرمندگی و ندامت نہیں اٹھانی پڑی۔ ان لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان یہ کافر قبیلہ مضر حائل ہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرمت والے مہینوں کے سوا نہیں آ سکتے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دوٹوک (فیصلہ کن) بات بتائیے۔ ہم اس کو اپنے پچھلے لوگوں کو بتائیں اور اس کے ذریعہ سے ہم جنت میں چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: جانتے ہو! صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ دینا اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن سے منع کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: ابو جمرہ رحمہ اللہ نے بعض دفعہ نقیر لکڑی میں کھدائی کیا ہوا برتن کہا اور بعض دفعہ مقیر تارکول ملا ہوا برتن کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو خود یاد رکھو اور اس کی اپنے پچھلوں کو خبر دو۔ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں «مِنْ وَرَاءَكُمْ» کی بجائے «مَنْ وَرَاءَكُمْ» کے الفاظ ہیں اور اس کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث السابق برقم (115)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 117
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ: أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ".
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی (سابقہ روایت کی) طرح حدیث بیان کی (اس کے الفاظ ہیں:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن، لکڑی سے تراشیدہ برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے (اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے)۔ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے پیشانی پر زخم والے شخص (اشج) سے کہا: تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: عقل اور تحمل۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 117]
ابو جمرہ رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو دباء (تونبہ لکڑی کے تراشیدہ برتن) سبز مٹکے اور تار کول ملے برتن میں تیار کیا جائے۔ ابن معاذ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: تم میں دو خوبیاں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: عقل و سمجھ داری اور ٹھہراؤ و وقار۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث قبل السابق برقم (115)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 18 ترقیم شاملہ: -- 118
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ سَعِيدٌ: وَذَكَر قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصُومُوا رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟ قَالَ: بَلَى، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، قَالَ سَعِيدٌ أَوَ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ، قَالَ: وَكُنْتُ أَخْبَأُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، قَالَ: وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ".
(اسماعیل) ابن عُلیہ نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے عبدالقیس کے وفد سے ملے تھا (سعید نے کہا: قتادہ نے ابونضرہ کا نام لیا تھا، یہ وفد سے ملے تھے، اور تفصیل حضرت ابوسعید سے سن کر بیان کی) انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے، اس لیے آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جو ہم اپنے پچھلوں کو بتائیں اور اگر اس پر عمل کر لیں تو ہم (سب) جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: (حکم دیتا ہوں کہ) اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز کی پابندی کرو، زکاۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور چار چیزوں سے میں تمہیں روکتا ہوں: خشک کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، ایسے برتن سے جس کو روغن زفت (تارکول) لگایا گیا ہو اور نقیر (لکڑی کے تراشے ہوئے برتن) سے۔ ان لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو نقیر کے بارے میں کیا علم ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں! (یہ) تنا ہے، تم اسے اندر سے کھوکھلا کرتے ہو، اس میں ملی جلی چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو، پھر اس میں پانی ڈالتے ہو، پھر جب اس کا جوش (خمیر اٹھنے کے بعد کا جھاگ) ختم ہو جاتا ہے تو اسے پی لیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک (یا ان میں ایک) اپنے چچازاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی طرح ایک زخم لگا تھا۔ اس نے کہا: میں شرم و حیا کی بنا پر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا رہا تھا، پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تو ہم کیا پیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ (دھاگے وغیرہ سے) باندھ دیے جاتے ہیں۔ اہل وفد بولے: اے اللہ کے رسول! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں، وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ پاتے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہے انہیں چوہے کھا جائیں، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں۔ کہا: (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اس شخص سے جس کے چہرے پر زخم تھا، فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: عقل اور تحمل۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 118]
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے اس شخص نے بتایا جس نے عبدالقیس کے اس وفد سے ملاقات کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ نے ابو نضرہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ روایت بیان کی کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مضر قبیلہ جو کافر ہے، حائل ہے اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسا حکم بتائیے جو ہم اپنے پچھلوں تک پہنچائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں، خشک کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، لکڑی کے تراشے ہوئے برتن اور تار کول ملے برتن سے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نقیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، تنا، تم اسے اندر سے کریدتے ہو، اس میں کھجوریں ڈالتے ہو۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں یا آپ نے کہا تمر (چھوہارے) ڈالتے ہو، پھر اس میں پانی ڈالتے ہو جب اس کا جوش ساکن ہو جاتا ہے (یعنی جوش ختم ہو جاتا ہے) اسے پی لیتے ہو، یہاں تک کہ تم میں سے ایک یا ان میں سے ایک اپنے چچا زاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے۔ لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی صورت میں ایک زخم لگا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میں اسے حیا و شرم کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپاتا تھا تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس چیز میں پیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ بندھے ہوئے ہوں۔ اہل وفد نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ سکتے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ان کو چوہے کھا لیں اگرچہ ان کو چوہے کاٹ لیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، عقل و دانشمندی اور تحمل و ٹھہراؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 18
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4375)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 18 ترقیم شاملہ: -- 119
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ، وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ: وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ، وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيد أَوَ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ.
ابن ابی عدی نے سعید کے حوالے سے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالقیس کے وفد سے ملاقات کرنے والے ایک سے زائد افراد نے بتایا اور ان میں سے ابونضرہ کا نام لیا (ابونضرہ نے) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر ابن عُلیہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اس میں ملی جلی کھجوریں، (عام) کھجوریں اور پانی ڈالتے ہو۔ (اور ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں) یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ سعید نے کہا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کھجوریں ڈالتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 119]
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے بہت سے ان لوگوں نے جن کی ملاقات عبدالقیس کے وفد سے ہوئی تھی، حدیث سنائی اور ابو نضرہ رحمہ اللہ نے ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ابن علیہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔ ہاں اس میں یہ الفاظ ہیں تم اس میں چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو اور چھوہارے اور پانی اور اس میں سعید رحمہ اللہ کا قول «أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ» یا چھوہارے نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 18
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد تخريجه في الحديث السابق برقم (118)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 18 ترقیم شاملہ: -- 120
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّأَخْبَرَهُ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ؟ فَقَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى ".
محمد بن بکار بصری، عاصم بن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان، کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! لکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرو اور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرو، مگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا جاتا ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 120]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالقیس کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے۔ کون سے مشروبات ہمارے لیے درست ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: لکڑی میں کھدے ہوئے برتن میں نہ پیو۔ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں نقیر کیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ درخت کا تنا جس کو درمیان سے کھود لیا جاتا ہے (یعنی چٹو) اور نہ خشک کدو کے برتن میں اور نہ سبز گھڑے میں، مشکیزوں میں پیو جن کا منہ بندھا ہوا ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 18
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4355)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں