🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الامر بالإيمان بالله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم وشرائع الدين والدعاء إليه والسؤال عنه وحفظه وتبليغه من لم يبلغه 
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 18 ترقیم شاملہ: -- 118
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ سَعِيدٌ: وَذَكَر قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصُومُوا رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟ قَالَ: بَلَى، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، قَالَ سَعِيدٌ أَوَ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ، قَالَ: وَكُنْتُ أَخْبَأُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، قَالَ: وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ".
(اسماعیل) ابن عُلیہ نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے عبدالقیس کے وفد سے ملے تھا (سعید نے کہا: قتادہ نے ابونضرہ کا نام لیا تھا، یہ وفد سے ملے تھے، اور تفصیل حضرت ابوسعید سے سن کر بیان کی) انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے، اس لیے آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جو ہم اپنے پچھلوں کو بتائیں اور اگر اس پر عمل کر لیں تو ہم (سب) جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: (حکم دیتا ہوں کہ) اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز کی پابندی کرو، زکاۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور چار چیزوں سے میں تمہیں روکتا ہوں: خشک کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، ایسے برتن سے جس کو روغن زفت (تارکول) لگایا گیا ہو اور نقیر (لکڑی کے تراشے ہوئے برتن) سے۔ ان لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو نقیر کے بارے میں کیا علم ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں! (یہ) تنا ہے، تم اسے اندر سے کھوکھلا کرتے ہو، اس میں ملی جلی چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو، پھر اس میں پانی ڈالتے ہو، پھر جب اس کا جوش (خمیر اٹھنے کے بعد کا جھاگ) ختم ہو جاتا ہے تو اسے پی لیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک (یا ان میں ایک) اپنے چچازاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی طرح ایک زخم لگا تھا۔ اس نے کہا: میں شرم و حیا کی بنا پر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا رہا تھا، پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! تو ہم کیا پیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ (دھاگے وغیرہ سے) باندھ دیے جاتے ہیں۔ اہل وفد بولے: اے اللہ کے رسول! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں، وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ پاتے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہے انہیں چوہے کھا جائیں، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں۔ کہا: (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اس شخص سے جس کے چہرے پر زخم تھا، فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: عقل اور تحمل۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 118]
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بتایا جس نے عبدالقیس کے اس وفد سے ملاقات کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: قتادہ رحمہ اللہ نے ابو نضرہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ روایت بیان کی کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مضر قبیلہ، جو کافر ہے، حائل ہے اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسا حکم بتائیے جو ہم اپنے پچھلوں تک پہنچائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہو جائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: خشک کدو کے برتن سے، سبز مٹکے سے، لکڑی کے تراشے ہوئے برتن اور تار کول ملے برتن سے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «النَّقِيرُ» نقیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں، تنا، تم اسے اندر سے کریدتے ہو، اس میں کھجوریں ڈالتے ہو۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یا آپ نے کہا «التَّمْرُ» تمر (چھوہارے) ڈالتے ہو، پھر اس میں پانی ڈالتے ہو جب اس کا جوش ساکن ہو جاتا ہے (یعنی جوش ختم ہو جاتا ہے) اسے پی لیتے ہو، یہاں تک کہ تم میں سے ایک یا ان میں سے ایک اپنے چچا زاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے۔ لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی صورت میں ایک زخم لگا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میں اسے حیا و شرم کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپاتا تھا تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس چیز میں پیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ بندھے ہوئے ہوں۔ اہل وفد نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ سکتے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ان کو چوہے کھا لیں، اگرچہ ان کو چوہے کاٹ لیں۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، عقل و دانشمندی اور تحمل و ٹھہراؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 18
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4375)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة حجة حافظ
👤←👥يحيى بن أيوب المقابري، أبو زكريا
Newيحيى بن أيوب المقابري ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 118 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 118
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
جِذْعٌ:
کھجور کے درخت کا تنا یا نچلا حصہ۔
(2)
أَسْقِيَةِ:
تم ڈالتے ہو۔
(3)
الْقُطَيْعَاء:
کھجوروں کی ایک قسم ہے،
جو چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں۔
(4)
تَصُبُّونَ:
تم ڈالتے ہوئے یا انڈیلتے ہو۔
(5)
سَكَنَ غَلَيَانَه:
جوش کا ماند پڑنا اور اس کا تھم جانا۔
(6)
أَسْقِيَة:
سِقَاءٌ کی جمع ہے مشک،
مشکیزہ۔
(7)
الْأَدَمِ،
أَدِيم:
کی جمع ہے چمڑا،
جِرذَانٌ جیم کے کسرہ کے ساتھ،
جُرذ کی جمع ہے،
چوہوں کی ایک قسم ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
جب انسان نشہ آور چیز استعمال کرتا ہے تو ا س کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور وہ عقل وشعور سے محروم ہو کر دوست دشمن میں امتیاز نہیں کر سکتا،
اپنے قریبی عزیز تک کو نقصان پہنچاتا ہے،
اس لیے شریعت اسلامیہ میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
(2)
جب شریعت کسی چیز سے روک دے تو اس کی اجازت کے لیے عذر اور بہانے تلاش کرنا درست نہیں،
اس لیے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا:
اگرچہ مشکیزوں کو چوہے کاٹ لیں۔
کسی کی حوصلہ افزائی کےلیے اس کی خوبیوں کا اس کے سامنے اعتراف کرنا درست ہے۔
(4)
ایمان اور اسلام:
مترادف یا ہم معنی ہیں،
اس لیے آپ نے وفد عبد القیس کے سامنے ایمان کی تفسیر وتشریح میں انہی اعمال کا تذکرہ فرمایا،
جن کو عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما)
کی حدیث میں اسلام کے تحت شمار کیا گیا ہے۔
(5)
مسائل پوچھنے کےلیے اہل علم کے پاس وفد بھیجنا درست ہے تا کہ وہ آکر پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگاہ کریں۔
(6)
اہل علم کے سامنے اپنا صحیح عذر پیش کرنا تا کہ بار بار آنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
(7)
آنے والوں کے سامنے مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا اور انہیں خوش آمدید کہنا تا کہ انہیں اپنی آمد کا مقصد بیان کرنے میں سہولت اور آسانی پیدا ہو،
بہتر ہے۔
(8)
بات سمجھنے کےلیے دوبارہ پوچھنا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 118]

Sahih Muslim Hadith 118 in Urdu