الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الامر بالإيمان بالله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم وشرائع الدين والدعاء إليه والسؤال عنه وحفظه وتبليغه من لم يبلغه
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
ترقیم عبدالباقی: 18 ترقیم شاملہ: -- 120
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ، وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّأَخْبَرَهُ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ؟ فَقَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ "، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ، أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ، وَلَا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى ".
محمد بن بکار بصری، عاصم بن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان، کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرو۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! لکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرو اور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرو، مگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا جاتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 120]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالقیس کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے۔ کون سے مشروبات ہمارے لیے درست ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”لکڑی میں کھدے ہوئے برتن میں نہ پیو۔ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں نقیر کیا ہے؟ فرمایا: ”ہاں۔“ درخت کا تنا جس کو درمیان سے کھود لیا جاتا ہے (یعنی چٹو) اور نہ خشک کدو کے برتن میں اور نہ سبز گھڑے میں، مشکیزوں میں پیو جن کا منہ بندھا ہوا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 18
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4355)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5185
| نهى رسول الله عن الشرب في الحنتمة والدباء والنقير |
صحيح مسلم |
120
| لا تشربوا في النقير قالوا يا نبي الله جعلنا الله فداءك أو تدري ما النقير قال نعم الجذع ينقر وسطه ولا في الدباء ولا في الحنتمة وعليكم بالموكى |
صحيح مسلم |
5183
| نهى رسول الله عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت |
صحيح مسلم |
5182
| نهى رسول الله عن الجر أن ينبذ فيه |
سنن ابن ماجه |
3403
| نهى رسول الله عن الشرب في الحنتم والدباء والنقير |
سنن النسائى الصغرى |
5636
| نهى النبي عن الشرب في الحنتم والدباء والنقير |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 120 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 120
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الأَشْرِبة:
شراب کی جمع ہے،
مشروب،
پینے کی چیز۔
(2)
الْمُوكَى:
جس کا منہ روکا،
یعنی تسمہ یا ڈوری سے باندھا گیا ہو۔
مفردات الحدیث:
(1)
الأَشْرِبة:
شراب کی جمع ہے،
مشروب،
پینے کی چیز۔
(2)
الْمُوكَى:
جس کا منہ روکا،
یعنی تسمہ یا ڈوری سے باندھا گیا ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 120]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5636
کدو کی تونبی سبز روغنی گھڑا اور لکڑی کے برتن میں بنی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھ کے برتن، کدو کی تونبی اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5636]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھ کے برتن، کدو کی تونبی اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5636]
اردو حاشہ:
مبادا اس میں نشہ ہو مگر ہلکا ہونے کی وجہ سے محسوس نہ ہو۔ یہ حکم ابتدا میں تھا جب لوگ شراب کے رسیا تھے اور انھیں شراب سے روک دیا گیا تھا۔ معمولی نشہ ان کو محسوس نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں جب نشے والی بات پرانی ہوگئی تو ان برتنوں میں نبیذ کی اجازت دے دی گئی، بشرطیکہ اس میں نشہ نہ ہو۔ یہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔
مبادا اس میں نشہ ہو مگر ہلکا ہونے کی وجہ سے محسوس نہ ہو۔ یہ حکم ابتدا میں تھا جب لوگ شراب کے رسیا تھے اور انھیں شراب سے روک دیا گیا تھا۔ معمولی نشہ ان کو محسوس نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں جب نشے والی بات پرانی ہوگئی تو ان برتنوں میں نبیذ کی اجازت دے دی گئی، بشرطیکہ اس میں نشہ نہ ہو۔ یہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5636]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3403
شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3403]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3403]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس ممانعت کی حکمت بیان کی جاچکی ہے۔
چنانچہ بعد میں جب مسلمانوں کے دلوں میں شراب کی نفرت پختہ ہوگئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی لیکن تنبیہ فرما دی کہ نشہ آور مشروب سے پرہیز لازم ہے جیسا کہ اگلے باب میں مذکور ہے۔
فوائد و مسائل:
اس ممانعت کی حکمت بیان کی جاچکی ہے۔
چنانچہ بعد میں جب مسلمانوں کے دلوں میں شراب کی نفرت پختہ ہوگئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال کی اجازت دے دی لیکن تنبیہ فرما دی کہ نشہ آور مشروب سے پرہیز لازم ہے جیسا کہ اگلے باب میں مذکور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3403]
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري