🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيُؤْمِنُوا بِجَمِيعِ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَصَمَ نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهَا وَوُكِّلَتْ سَرِيرَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَقِتَالِ مَنْ مَنَعَ الزَّكَاةَ أَوْ غَيْرَهَا مِنْ حُقُوقِ الْإِسْلَامِ وَاهْتِمَامِ الْإِمَامِ بِشَعَائِرِ الْإِسْلَامِ 
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 20 ترقیم شاملہ: -- 124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْر بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا، كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے (اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کا اقرار کر لیں، پس جو کوئی «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس ( «لا الٰه الا الله») کا حق ہو، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اللہ کی قسم! اصل بات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 124]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور عرب کے بعض لوگ کافر ہو گئے (اور ابو بکر نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ ان لوگوں سے کس طرح جنگ کر سکتے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کا اقرار نہ کریں۔ جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ لیا اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کر لیا الا یہ کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کا تقاضا اس کے خلاف ہو (وہ دین کے احکام و حدود کی خلاف ورزی کرے گا تو مواخذہ ہوگا) اور اس کا محاسبہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے (اس کا باطن اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے)۔ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے کیونکہ زکوٰۃ مال میں (اللہ کا) حق ہے اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ ایک زانو بند (رسی) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے، مجھے نہیں دیں گے تو میں اس (زانو بند) کے روکنے پر ضرور ان سے جنگ لڑوں گا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے یقین کر لیا کہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے لیے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے (اللہ تعالیٰ نے ابو بکر کے دل میں اس کا القا فرمایا ہے) تو میں جان گیا یہی چیز درست ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 20
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: وجوب الزكاة برقم (1399) وفي باب اخذ العناق فى الصدقة مختصراً برقم (1457) وفي الجهاد، باب: دعاء النبى صلى الله عليه وسلم الي الاسلام والنبوة، وان لا يتخذ بعضهم بعضا اربابا من دون الله برقم (2946) وفى استتباة المرتدين، والمعاندين، باب: قتل من ابى قبول الفرائض و ما نسبوا الى الردة برقم (6924) وفى كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب: الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم برقم (6855) وابوداؤد فى ((سننه)) فى الزكاة برقم (1556، 1557) والترمذى فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ما جاء امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2607) والنسائي فى ((المجتبى)) 14/5-15 فى الزكاة، باب: مانع الزكاة وفي الجهاد، باب: وجوب الجهاد 6/5-7 وفي كتاب تحريم الدم 77/7-78 - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (10666)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 125
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کے قائل ہو جائیں، چنانچہ جو «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، الا یہ کہ اس (اقرار) کا حق ہو، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 125]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کی شہادت دیں، جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ لیا، اس کے میری طرف سے مال و جان محفوظ ہو گئے، إلا یہ کہ اس کا (کلمہ) حق ہو اور اس کا مواخذہ اللہ تعالیٰ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي فى ((المجتبي)) 6/5 فى الجهاد، باب وجوب الجهاد - انظر ((التحفة)) برقم ((13344)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
عبدالرحمن بن یعقوب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے میری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس شہادت کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 126]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کی گواہی دیں، اور مجھ پر اور جو (دین) میں لے کر آیا ہوں، اس پر ایمان لے آئیں، سو جب وہ ایسا کر لیں، تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14016)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 127
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش ہی نے ابوصالح سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے... سعید بن مسیب کی حدیث کی طرح جو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 128
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ {21} لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ {22} سورة الغاشية آية 21-22.
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں گے تو انہوں نے میری طرف سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، الا یہ کہ اس (کلمے کے) حق کا (تقاضا) ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی: «إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ» آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 128]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے، کہ لوگوں سے جنگ لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہیں، جب «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ لیں گے، تو اس کے بعد میری طرف سے ان کے خون اور مال محفوظ ہیں الا یہ کہ اس (کلمہ) کے حق کا تقاضا ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ ان پر مسلّط (جبر کرنے والے) نہیں ہیں۔ (سورة الغاشیہ: 21،22) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجة فى ((سننه)) فى الفتن، بابه: الكف عمن قال: لا اله الا الله (3927) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12367)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 22 ترقیم شاملہ: -- 129
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عناللہ بن عمر، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ «لا إله إلا الله محمد رسول الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے شروع کر لیں، اگر وہ ایسا کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنا جان و مال بچا لیا، مگر حق پر ان کا جان اور مال تعرض نہیں کیا جائے گا، ان کے دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 129]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں۔ پس جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں، تو انہوں نے اپنے خون (جان) اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 22
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صححه)) فى الايمان، باب: ﴿ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ﴾ برقم (25) انظر ((التحفة)) برقم (7422)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 23 ترقیم شاملہ: -- 130
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
مروان فزاری نے ابومالک (سعد بن طارق اشجعی) سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (طارق بن اشیم) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے «لا إله إلا الله» کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے، ان (سب) کا انکار کیا تو اس کا مال و جان محفوظ ہو گیا اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 130]
ابو مالک رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے کا انکار کیا اس کا مال و جان محفوظ ہے اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 23
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4978)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 23 ترقیم شاملہ: -- 131
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ابوخالد احمر اور یزید بن ہارون نے ابومالک سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کو یکتا قرار دیا ...... پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 131]
ابو مالک رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کو یکتا قرار دیا۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 23
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (129)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں