🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب بَيَانِ كَوْنِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الأَعْمَالِ:
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 83 ترقیم شاملہ: -- 248
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ "، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: حج مبرور (ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو۔) محمد بن جعفر کی روایت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 248]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان باللہ۔ پوچھا گیا پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد (اللہ کے راستے میں جہاد کرنا) پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: حجِ مقبول۔ اور محمد بن جعفر کی روایت میں ہے اللہ اور رسول پر ایمان لانا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 83
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الايمان، باب: من قال: ان الايمان هو العمل برقم (26) وفي الحج، باب: فضل الحج المبرور برقم (1447) والنسائي في كتاب: الايمان، باب: ذکر افضل الاعمال 93/8-94 - انظر ((التحفة)) برقم (13101)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 83 ترقیم شاملہ: -- 249
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(ابراہیم بن سعد کے بجائے) معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 249]
امام مسلم رحمہ اللہ یہی روایت ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 83
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبى)) 113/5 فی الحج، باب: فضل الحج، وفي الجهاد، في باب ما يعدل الجهاد في سبيل الله عز وجل 19/6 - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (13280)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 84 ترقیم شاملہ: -- 250
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے پوچھا کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالکوں کو پسندیدہ اور قیمت میں زیادہ۔ میں نے پوچھا اگر میں یہ کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہر کاریگر کی مدد کرو اور اناڑی کا کام کردو۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں کوئی کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اپنا شر روک لو، (ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ بھی تیرا اپنے اوپر صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 84
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العتق باب: اى الرقاب افضل برقم (2382) والنسائي في ((المجتبى)) 19/6 في الجهاد، باب: ما يعدل الجهاد في سبيل الله مختصراً۔ وابن ماجه في ((سننه)) في العتق، باب: العتق برقم (2523) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12004)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 84 ترقیم شاملہ: -- 251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ.
(ہشام کے بجائے) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے (تعین صانع کے بجائے) «فتعین الصانع» (الف لام کے ساتھ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 251]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں «فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» کے الفاظ ہیں (اوپر کی روایت میں تعین «صانعاً» تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 84
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (246)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 252
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ ".
(ابواسحاق سلیمان بن فیروز کوفی) شیبانی نے ولید بن عیزار سے، انہوں نے سعد بن ایاس ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 252]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اپنے وقت پر۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت و لحاظ کی خاطر مزید سوالات نہ کیے۔ (کہ آپ پر گراں نہ گزرے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في مواقيت الصلاة، باب: فضل الصلاة لوقتها برقم (504) وفي الجهاد، باب: فضل الجهاد والسير برقم (2630) وفي الادب، باب: البر والصلة برقم (5625) وفي التوحيد،باب: وسمى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة عملا وقال: ((لاصلاة لمن لمن يقرا بفاتحة الكتاب)) برقم (7096) والترمذى في ((جامعه)) في الصلاة، باب: ما جاء في الوقت الاول من الفضل۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (173) والنسائي في ((المجتبى)) 1//292 في المواقيت، باب فضل الصلاة لمواقيتها - انظر ((تحفة الاشراف)) (9232)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
ابویعفور (عبدالرحمن بن عبید بن نسطانس) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابوعمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب (کردیتا) ہے؟ فرمایا: نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 253]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز۔ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ احسان سے پیش آنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (248)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 254
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ: وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
عبیداللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی (اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
ابو عمرو شیبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے اس گھر کے مالک نے بتایا، اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے کہا پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں مجھے بتائیں اور اگر میں اور پوچھتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید بتا دیتے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں سوال کرتا تو آپ اور عمل بیان فرما دیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (248)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا.
شعبہ سے ان کے ایک شاگرد محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ابوعمرو شیبانی نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کا نام نہ لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 255]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں آخر میں اتنا اضافہ کیا عبداللہ رضی اللہ عنہ (ابن مسعود) کے گھر کی طرف اشارہ کیا، ان کا نام ہمیں نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (248)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 256
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ".
ابوعمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبیداللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سب سے افضل اعمال (یا عمل) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 256]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال میں سب سے افضل یا افضل عمل وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسنِ سلوک اور نیکی کرنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (248)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں