صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2080. (339) بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ اسْتِنَانًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُبَادَرَةً بِقَضَاءِ الْوَاجِبِ عَنِ الطَّوَافِ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی تعمیل میں طواف زیارہ یوم النحر دس ذوالحجہ ہی کو کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: Q2941
الَّذِي بِهِ يَتِمُّ حَجُّ الْحَاجِّ؛ خَوْفَ أَنْ يَعْرِضَ لِلْمَرْءِ مَا لَا يُمْكِنُهُ طَوَافُ الزِّيَارَةِ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ تَأْخِيرُ الْإِفَاضَةِ عَنْ يَوْمِ النَّحْرِ جَائِزًا.
چونکہ طواف زیارت واجب ہے اور اسی کے ساتھ حاجی کا حج مکمّل ہوتا ہے اس لئے اسے ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی رکاوٹ کے پیش آجانے سے حاجی طواف زیارہ ہی نہ کرسکے اگرچہ طواف زیارہ دس ذوالحجہ سے موَخر کرنا جائز ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q2941]
حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى" قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ يَعْنِي بِمِنًى، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی۔ امام نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی والے دن طواف افاضہ کر لیتے تھے۔ پھر واپس آ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے تھے، اور آپ بتاتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2941]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1308، وابن الجارود فى "المنتقى"، 534، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2941، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3882، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1751، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4154، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4992»