صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب الاِعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ:
باب: ستر چھپانے میں احتیاط۔
ترقیم عبدالباقی: 340 ترقیم شاملہ: -- 771
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جميعا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: إِزَارِي، إِزَارِي، فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ "، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَلَى رَقَبَتِكَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلَى عَاتِقِكَ.
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے (اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں) عبدالرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں (ابن جریج) نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو عباس رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پتھر ڈھونے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اور آنکھیں (اوپر ہو کر) آسمان پر ٹک گئیں، پھر آپ اٹھے اور کہا: ”میرا تہبند، میرا تہبند۔“ تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا۔ ابن رافع کی روایت میں علی رقبتک (اپنی گردن پر) کے الفاظ ہیں، انہوں نے علی عاتقک (اپنے کندھے پر) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 771]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو عباس رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پتھر لانے لگے تو عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، پتھروں کی حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور کہا: میرا تہبند، میرا تہبند تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند باندھ دیا گیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند باندھ لیا، ابن رافع رحمہ اللہ کی روایت میں «عَلَى عَاتِقِكَ» (اپنے کندھے پر) کے بجائے «عَلَى رَقَبَتِكَ» (اپنی گردن پر) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 340 ترقیم شاملہ: -- 772
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ، فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبِكَ دُونَ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَحَلَّهُ، فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَا رُؤِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا ".
زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہم سے عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ کعبے کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ کا تہبند جسم پر تھا، اس موقع پر آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے بھتیجے! بہتر ہو گا کہ تم اپنا تہبند کھول دو اور اسے اپنے مونڈھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو۔ جابر نے کہا: آپ نے اسے کھول کر اپنے مونڈھے پر رکھ لیا تو آپ کو غش کھا کر گر گئے۔ جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس دن کے بعد آپ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 772]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی تعمیر کے لیے قریش کے ساتھ پتھر نقل کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند باندھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا، اے بھتیجے! اے کاش آپ اپنا تہبند کھول لیں، تہبند کھول کر پتھروں سے بچاؤ کے لیے اپنے کندھے پر رکھ لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول کر اپنے کندھے پر رکھ لیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غشی کھا کر گر گئے، اس دن کے بعد کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے نہیں دیکھا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 772]
ترقیم فوادعبدالباقی: 340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 341 ترقیم شاملہ: -- 773
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: " أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ، وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي، وَمَعِيَ الْحَجَرُ، لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ، حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ، فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً ".
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سا تہبند باندھا ہوا تھا، کہا: تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا۔ میں اس (پتھر) کو نیچے نہ رکھ سکا حتیٰ کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا کر اپنا کپڑا پہن لو اور ننگے نہ چلا کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 773]
حضرت مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بھاری پتھر اٹھائے ہوئے آگے بڑھا، اور میں ہلکا سا تہبند باندھے ہوئے تھا تو میرا پتھر اٹھائے ہوئے تہبند کھل گیا، اور میں اس کو اس کی جگہ پر رکھے بغیر باندھ نہ سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کپڑے کی طرف لوٹ کر اس کو اٹھاؤ اور ننگے نہ چلا کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 773]
ترقیم فوادعبدالباقی: 341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة