🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب الاعتناء بحفظ العورة:
باب: ستر چھپانے میں احتیاط۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 340 ترقیم شاملہ: -- 771
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جميعا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: إِزَارِي، إِزَارِي، فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ "، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَلَى رَقَبَتِكَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلَى عَاتِقِكَ.
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے (اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں) عبدالرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں (ابن جریج) نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو عباس رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پتھر ڈھونے لگے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اور آنکھیں (اوپر ہو کر) آسمان پر ٹک گئیں، پھر آپ اٹھے اور کہا: میرا تہبند، میرا تہبند۔ تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا۔ ابن رافع کی روایت میں علی رقبتک (اپنی گردن پر) کے الفاظ ہیں، انہوں نے علی عاتقک (اپنے کندھے پر) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 771]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پتھر لانے لگے، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: پتھروں کی حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور فرمایا: میرا تہبند، میرا تہبند، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند باندھ دیا گیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند باندھ لیا۔ ابن رافع رحمہ اللہ کی روایت میں «عَلَىٰ عَاتِقِكَ» اپنے کندھے پر کے بجائے «عَلَىٰ رَقَبَتِكَ» اپنی گردن پر کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن رافع القشيري
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← محمد بن بكر البرساني
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← محمد بن حاتم السمين
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3829
اجعل إزارك على رقبتك يقيك من الحجارة فخر إلى الأرض وطمحت عيناه إلى السماء ثم أفاق فقال إزاري فشد عليه إزاره
صحيح البخاري
364
لو حللت إزارك فجعلت على منكبيك دون الحجارة قال فحله فجعله على منكبيه فسقط مغشيا عليه فما رئي بعد ذلك عريانا
صحيح البخاري
1582
اجعل إزارك على رقبتك فخر إلى الأرض وطمحت عيناه إلى السماء فقال أرني إزاري فشده عليه
صحيح مسلم
771
اجعل إزارك على عاتقك من الحجارة ففعل فخر إلى الأرض وطمحت عيناه إلى السماء ثم قام فقال إزاري فشد عليه إزاره
صحيح مسلم
772
لو حللت إزارك فجعلته على منكبك دون الحجارة قال فحله فجعله على منكبه فسقط مغشيا عليه قال فما رؤى بعد ذلك اليوم عريانا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 771 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 771
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان کو دوسروں کے سامنے اپنا ستر نہیں کھولنا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے ہی اپنی طبعی شرم وحیا کی بنا پر چچا کے حکم سے اپنا تہبند کھول تو لیا۔
لیکن فوراً بے ہوش ہو کر گر پڑے،
اور آپ کو اس کام سے روک دیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو نبوت سے پہلے ہی غلط کاموں سے محفوظ فرماتا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقول زہری بلوغت کو نہیں پہنچے تھے بقول بعض اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پندرہ سال،
بقول بعض پچیس اور بقول ابن اسحاق پینتیس سال تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 771]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 364
باب: (بلا ضرورت) ننگا ہونے کی کراہیت نماز میں (ہو یا اور کسی حال میں)۔
«. . . حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَحَلَّهُ، فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . . . .»
. . . ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت سے پہلے) کعبہ کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے۔ اس وقت آپ تہبند باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس نے کہا کہ بھتیجے کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے (تاکہ تم پر آسانی ہو جائے) جابر نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا۔ اسی وقت غشی کھا کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/بَابُ كَرَاهِيَةِ التَّعَرِّي فِي الصَّلاَةِ وَغَيْرِهَا: 364]
تخريج الحديث:
[195۔ البخاري فى: 8 كتاب الصلاة: 8 باب كراهية التعري فى الصلاة وغيرها 364، مسلم 340، ابن حبان 1603]
لغوی توضیح:
«فَحَلَّهُ» آپ نے اسے اتار دیا۔
«مَغْشِيًّا» جسے غشی آ جائے۔
«عُرْيَانًا» ننگا۔
فھم الحدیث:
معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں بھی اہل جاہلیت کی بری عادتوں سے بچا کر رکھا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ستر پوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل حیات ہے۔ آپ نے اس کا حکم بھی دیا ہے، فرمایا کہ اپنی بیوی اور لونڈی کے سوا ہر ایک سے اپنے ستر کی حفاظت کرو۔ [حسن: المشكاة 3117، مسند أحمد 3/5 4، أبوداود 4017، ترمذي 2769]
یعنی انسان صرف اپنی بیوی اور لونڈی کے سامنے ستر ظاہر کر سکتا ہے۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 195]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1582
1582. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس ؓ پتھر اٹھا کر لارہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اپنا تہبند اُتار کرکندھے پر رکھ لیں۔ جب آپ نے ایسا کیا تو بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑے اور آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ آپ نےفرمایا: میراتہبند مجھے دے دو۔ اس کے بعد آپ نے اپنا تہبند اپنے اوپر باندھ لیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1582]
حدیث حاشیہ:
اس زمانہ میں محنت مزدوری کے وقت ننگے ہونے میں عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
لیکن چونکہ یہ امر مروت اور غیرت کے خلاف تھا، اللہ نے اپنے حبیب کے لئے اس وقت بھی یہ گوارہ نہ کیا گو اس وقت تک آپ کو پیغمبری نہیں ملی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1582]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:364
364. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ہمراہ تعمیرِ کعبہ کے لیے پتھر اٹھاتے تھے۔ آپ نے صرف تہ بند باندھا ہوا تھا۔ آپ کے چچا حضرت عباس ؓ نے کہا: اے میرے بھتیجے! اگر تم اپنا تہ بند اتار کر اسے اپنے کندھوں پر پتھر کے نیچے رکھ لو (تو تمہارے لئے آسانی ہو گی)۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا تہ بند اتار کر اپنے کندھوں پر رکھ لیا، چنانچہ آپ اسی وقت بےہوش ہو کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:364]
حدیث حاشیہ:

برہنگی نماز اور غیر نماز دونوں حالتوں میں ممنوع ہے، نماز کی حالت میں تو ظاہر ہے، لیکن نماز کے علاوہ بھی بلاضرورت ستر کا برہنہ رکھناشرعاً ممنو ع ہے۔
مذکورہ بالا روایت میں جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ خارج صلاۃ کا ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال اس طرح ہے کہ جب سترپوشی کااہتمام نماز کے علاوہ اس قدر ہے تونماز میں توبدرجہ اولیٰ اس کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔
ابن بطال ؒ نے لکھاہے کہ کشف ازار کا واقعہ جب پیش آیا تو آپ کی عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی اور نبوت سے بھی سرفراز نہیں ہوئے تھے۔
چونکہ برہنگی آپ کی شان کے خلاف تھی، اس لیے فوراً بے ہوشی طاری کردی گئی اور تنبیہ کردی گئی تاکہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو، کیونکہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی تربیت شروع ہی سے اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی میں ہوتی ہے۔
بعثت سے قبل ایسے امور کی اصلاح دوسرے ہی طریقوں سے ممکن تھی، اس لیے آسمانی اشارے یاسلامت طبع کے تحت فوراً آپ بے ہوش ہوگئے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے طبرانی ؒ کے حوالے سے یہ الفاط نقل کیے ہیں کہ آپ فوراً کھڑے ہوئے، اپنی آواز کو سنبھالا اور فرمایا کہ مجھے ننگا ہو کر چلنے سے منع کردیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 615/1)
اس سے معلوم ہوا کہ آپ بعثت سے پہلے برے کاموں اور بے شرمی کی باتوں سے محفوظ تھے۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جب عام حالات میں کسی خاص ضرورت کے پیش نظر برہنگی درست نہیں تو نماز ننگے کیسے پڑھی جاسکتی ہے؟ایک دوسرے کو ننگا دیکھ سکتے ہیں۔
(شرح ابن بطال: 27/2)
اس کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں دوسروں کے سامنے ننگا ہونا منع ہے۔
البتہ خاص حالات میں کسی مجبوری کے پیش نظر اس کا جواز ہے۔
خاص حالات حسب ذیل ہوسکتے ہیں، غسل خانے میں نہاتے وقت، مثانے یا بواسیر کا آپریشن کراتے وقت، ولادت کے موقع پر اپناستر کھولنے کی اجازت ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 364]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1582
1582. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس ؓ پتھر اٹھا کر لارہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اپنا تہبند اُتار کرکندھے پر رکھ لیں۔ جب آپ نے ایسا کیا تو بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑے اور آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ آپ نےفرمایا: میراتہبند مجھے دے دو۔ اس کے بعد آپ نے اپنا تہبند اپنے اوپر باندھ لیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1582]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں تعمیر کعبہ کا ذکر ہے۔
اس وقت آٹھویں مرتبہ قریش نے اسے تعمیر کیا تھا۔
اس سے مکہ مکرمہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پتھر اپنے کندھوں پر اٹھائے تھے۔
اس وقت آپ کی عمر پینتیس برس تھی۔
اس وقت محنت و مزدوری کے وقت ننگے ہونے کو عیب نہیں سمجھا جاتا تھا، اس لیے آپ نے اپنی چادر اتار کر کندھے پر رکھ لی لیکن اس وقت بھی ایسا کام مروت اور غیرت کے خلاف تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ گوارا نہ ہوا۔
اس کے بعد کبھی آپ کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
(2)
واضح رہے کہ یہ واقعہ زمانہ نبوت سے پہلے کا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے (باب كراهية التعري في الصلاة)
نماز میں برہنہ رہنے کی ممانعت (صحیح البخاري، الصلاة، باب: 8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1582]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3829
3829. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس ؓ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں جو آپ کو پتھروں کی رگڑ سے محفوظ رکھے گا۔ جب آپ نے ایسا کیا تو زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان سے لگ گئیں۔ پھر جب ہوش آیا تو (اپنے چچا عباس سے) فرمایا: میرا تہبند دو، میرا تہبند دو چنانچہ انہوں نے وہ تہبند آپ کو مضبوط باندھ دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3829]
حدیث حاشیہ:

ابوطفیل کی روایت میں ہے کہ تہبند اتارنے سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر کھل گیا توآواز آئی:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے ستر کو چھپاؤ۔
اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
(فتح الباري: 185/7۔
وأخبار مکة للآزرقي: 194/1)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی قبائح ورزائل سے محفوظ تھے اور اسی طرح نبوت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی قباحت و رذالت سے محفوظ رکھا۔
(عمدة القاري: 543/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3829]

Sahih Muslim Hadith 771 in Urdu