🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب الوضوء من المذي
مذی (خارج ہونے) سے وضو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنْ أَهْلِهِ فَيُمْذِي؟ فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ" ، قَالَ: يَعْنِي يَغْسِلُهُ وَيَتَوَضَّأُ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا، جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے اور اس کی مذی نکل آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسی کیفیت محسوس کرے، تو اپنی شرمگاہ کو دھوئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی که شرمگاہ کو دھوئے اور وضو کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 5/6، سنن أبى داود: 207، سنن النسائي: 156، مؤطّأ الإمام مالك: 140/1، برواية يحيىٰ، يه سند انقطاع كي وجه سے ”ضعيف“ هے، سليمان بن يسار كا مقداد بن اسود سے سماع نهيں، مگر صحيح مسلم: 303، كي روايت اس سند سے مستغني كر ديتي هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي، فَأَمَرْتُ رَجُلا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مِنْهُ الْوُضُوءُ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے کثرت سے مذی آتی تھی، مگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا) میرے نکاح میں تھیں، چنانچہ میں نے ایک آدمی (مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ) سے کہا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو ضروری ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 269»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: ثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ابْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَأَمَّا الْمَاءُ بَعْدَ الْمَاءِ هُوَ الْمَذْي، وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ" .
سیدنا عبد الله بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس پانی کے بعد منی نکلتی ہے، اسے مذی کہتے ہیں اور ہر جوان کو مذی آتی ہے، چنانچہ ایسی کیفیت میں آپ شرمگاہ اور خصیتین کو دھو لیا کریں اور نماز والا وضو کر لیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 342/4، سنن أبى داود: 211، سنن الترمذي: 133، سنن ابن ماجه: 651، اس حديث كو امام ترمذي الله نے ”حسن غريب“ كہا هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں