🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. باب جَوَازِ النَّافِلَةِ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَفِعْلِ بَعْضِ الرَّكْعَةِ قَائِمًا وَبَعْضِهَا قَاعِدًا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 732 ترقیم شاملہ: -- 1709
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1709]
امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے بھی مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1709]
ترقیم فوادعبدالباقی: 732
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 732 ترقیم شاملہ: -- 1710
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی نماز کا بہت سا حصہ بیٹھے ہوئے ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1710]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے نماز کا بہت سا حصہ بیٹھ کر پڑھنے لگے یا بہت سی نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 732
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 732 ترقیم شاملہ: -- 1711
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كلاهما، عَنْ زَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ، كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا ".
عبداللہ بن عروہ کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن ذرا بڑھ گیا اور آپ بھاری ہو گئے تو آپ کی نماز کا زیادہ تر حصہ بیٹھے ہوئے (ادا) ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1711]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رحضرت ہو گئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن بھاری اور بوجھل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1711]
ترقیم فوادعبدالباقی: 732
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 733 ترقیم شاملہ: -- 1712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے سائب بن یزید سے، انہوں نے مطلب بن ابی وداعہ سہمی سے اور انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر کبھی نہ پڑھتے دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے کا زمانہ ہوا تو آپ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے۔ آپ سورت کی قراءت کرتے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ (یعنی بیٹھ کر لیکن اور بھی زیادہ لمبی نماز پڑھتے) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1712]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفلی نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ وفات سے ایک سال پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ پڑھتے اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ اپنے سے طویل سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1712]
ترقیم فوادعبدالباقی: 733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 733 ترقیم شاملہ: -- 1713
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌجَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: بِعَامٍ وَاحِدٍ، أَوِ اثْنَيْنِ.
یونس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت کی، البتہ ان دونوں (یونس اور معمر) نے ایک یا دو سال کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1713]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے: جب ایک یا دو سال رہ گئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 734 ترقیم شاملہ: -- 1714
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَمْ يَمُتْ حَتَّى صَلَّى قَاعِدًا ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ (رات کو) بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1714]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1714]
ترقیم فوادعبدالباقی: 734
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 735 ترقیم شاملہ: -- 1715
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو؟ قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَنَّكَ قُلْتَ صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ".
جریر نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابویحییٰ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر آدمی کی نماز (اجر میں) آدھی نماز ہے۔ انہوں نے کہا: ایک بار میں آپ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر مبارک پر رکھا۔ آپ نے پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر آدمی کی نماز آدھی نماز کے برابر ہے۔ جبکہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں، ایسا ہی ہے، لیکن میں تم میں سے کسی ایک طرح کا نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1715]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: آدمی کی بیٹھ کر نماز آدھی نماز ہے۔ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا، تو میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر رکھ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: آدمی کی بیٹھ کر نماز آدھی نماز کے برابر ہے۔ یعنی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں آدھا اجر ملتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1715]
ترقیم فوادعبدالباقی: 735
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 735 ترقیم شاملہ: -- 1716
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الأَعْرَجِ.
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے اسی سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ شعبہ کی روایت میں ہے: ابویحییٰ الاعرج سے روایت ہے (انہوں نے ابویحییٰ کے ساتھ ان کے لقب الاعرج کا بھی ذکر کیا ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1716]
مصنف نے یہی حدیث دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1716]
ترقیم فوادعبدالباقی: 735
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں