صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2036
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ، فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا ".
خالد بن عبداللہ نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ چکے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2036]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ پڑھ چکو، تو اس کے بعد چار رکعات پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2037
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا ". زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : قَالَ سُهَيْلٌ : " فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو الناقد نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے سہیل سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعے کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعتیں پڑھو۔“ عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا، ابن ادریس نے کہا سہیل نے کہا: اگر تمہیں کسی چیز کی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس جا کر (گھر میں) پڑھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2037]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعت پڑھو“ عمرو کی روایت میں ہے سہیل نے کہا: اگر تمھیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعت مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعت واپس جا کر(گھر میں) پڑ ھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 881 ترقیم شاملہ: -- 2038
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: مِنْكُمْ.
جریر اور سفیان نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے۔“ جریر کی حدیث میں (تم میں سے) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2038]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”تم میں سے کوئی جب جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چار رکعت پڑھے۔“ جریر کی حدیث میں ”مِنكُم“ (تم میں سے) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 881
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 882 ترقیم شاملہ: -- 2039
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ".
لیث نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب وہ جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جاتے اور اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2039]
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جا کراپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے پھر انہوں نے (ابن عمر) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 882 ترقیم شاملہ: -- 2040
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ "، قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّنِي قَرَأْتُ " فَيُصَلِّي أَوْ أَلْبَتَّةَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ پر (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کو بیان کیا اور کہا کہ آپ جمعے کے بعد کوئی (نفل) نماز نہ پڑھتے حتیٰ کہ واپس تشریف لے جاتے پھر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے) فیصلی پڑھا تھا یا یقین ہے (کہ یہی پڑھا تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2040]
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز کو بیان کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر جا کر ہی دو رکعت پڑھتے تھے۔ یحییٰ کہتے ہیں ظن ہے یا یقین ہے کہ میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ”فيصلي“ کا لفظ پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 882 ترقیم شاملہ: -- 2041
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ".
سالم نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2041]
حضرت سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 882
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 883 ترقیم شاملہ: -- 2042
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ " نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ "، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ ".
غندر نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن عطاء بن ابی خوار نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب کے پاس بھیجا ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھنے کے لیے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز میں دیکھی تھی۔ سائب نے کہا: ہاں، میں نے مقصورہ (مسجد کے حجرے) میں ان کے ساتھ جمعہ پڑھا تھا۔ اور جب امام نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور نماز پڑھی۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو کام تم نے کیا ہے آئندہ نہ کرنا۔ جب تم جمعہ پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز سے نہ ملانا یہاں تک کہ گفتگو کر لو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا تھا کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم گفتگو کر لیں یا (اس جگہ سے) نکل جائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2042]
عمر بن عطاء بن ابی خوار سے روایت ہے کہ نافع بن جبیر نے اسے سائب ابن اخت نمر کے پاس بھیجا وہ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھتے، جو ان کی نماز میں امیر معاویہ نے دیکھی تھی سائب نے کہا: ہاں، میں نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جمعہ مقصورہ پڑھا تو جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اٹھ کر اپنی جگہ نماز پڑھی تو معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو کام تم نے کیا ہے آئندہ نہ کرنا۔ جب تم جمعہ پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی نماز ملاؤ یہاں تک کہ گفتگو کرلو یا اس جگہ سے نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز دوسری نماز سے نہ ملائی جائے حتیٰ کہ ہم گفتگو کر لیں یا اس جگہ سے نکل جائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 883 ترقیم شاملہ: -- 2043
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي "، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ.
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمر بن عطاء نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید کے پاس بھیجا۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا۔ مگر (اس روایت میں) یہ ہے کہ سائب نے کہا: جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے (سلام پھیرا کہا) امام کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2043]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسری سند سے بیان کی ہے۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ سائب نے کہا: جب سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ ”سَلَّمَ“ کے بعد امام کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة