صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لاَ يُؤَدِّي الزَّكَاةَ:
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 990 ترقیم شاملہ: -- 2300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَنْ هُمْ؟، قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ "،
وکیع نے کہا: اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ کہا: میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا (ہی تھا) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، وہ کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں، سوائے اس کے جس نے، اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں، ایسے، ایسے اور ایسے کہا (لے لو، لے لو) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہو کر آئیں گی جتنی زیادہ سے زیادہ تھیں، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی، پہلی اس (کے سر) پر واپس آ جائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2300]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ ناکام اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ میں آ کر آپ کے پاس بیٹھا ہی تھا اور میں نے قرار و ثبات حاصل نہیں کیا تھا کہ میں اٹھ کھڑا ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ مال دار لوگ ہیں مگر جس نے ادھر، اُدھر، یہاں، وہاں، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں (ہر ضرورت کے موقع پر) خرچ کیا۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں؛ جو بھی اونٹوں یا گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن زیادہ سے زیادہ تعداد ہونے کی حالت میں اور فربہ ہو کر آئیں گے۔ وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے کھروں سے اسے پامال کریں گے، جب بھی ان میں سے آخری گزرے گا ان میں سے پہلا واپس آ چکا ہو گا۔ حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 990
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 990 ترقیم شاملہ: -- 2301
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ، فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے معرور سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔۔۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے، البتہ (اس میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ، گائے یا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2301]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ آگے وکیع کی مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے، ہاں اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور اونٹ یا گائے یا بکریاں پیچھے چھوڑتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 990
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 991 ترقیم شاملہ: -- 2302
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ "،
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے رکھ لوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2302]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں ہے (میرے لیے خوشی کا باعث نہیں) کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے تیار رکھوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 991
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 991 ترقیم شاملہ: -- 2303
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2303]
امام صاحب رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت اپنے ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 991
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة