صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا وَبَيَانِ مَحِلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا:
باب: شب قدر کی فضیلت اور اس کو تلاش کرنے کی ترغیب، اور اس کے تعین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2761
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ آخری سات راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں لیلۃ القدر دکھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات راتوں میں ایک دوسرے کے موافق ہو گیا ہے، اب جو اس (لیلۃ القدر) کو تلاش کرنا چاہے وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان کردہ مکمل الفاظ آگے حدیث: 2764 میں ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2761]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں دکھایا گیا کہ لیلۃ القدر (رمضان کے) آخری ہفتہ میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تمھارا خواب آخری سات راتوں کے بارے میں متفق ہے (ایک دوسرے کے موافق ہے) اس لیے جو شخص شب قدر کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2762
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ".
عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”لیلۃ القدر کو (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2762]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2763
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے (خواب میں) دیکھا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا خواب آخری عشرے کے بارے میں ہے، تم اس (لیلۃ القدر) کو اس (عشرے) کی طاق (راتوں) میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2763]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ شب قدر رمضان کی ستائیسویں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھارا خواب آخری عشرہ کے بارے میں دیکھتا ہوں اس لیے لیلۃ القدر اس کی طا ق راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2764
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ: " إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْأُوَلِ، وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، (کہا:) مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا، فرما رہے تھے: ”تم میں سے کچھ لوگوں کو (خواب میں) دکھایا گیا ہے کہ یہ پہلی سات راتوں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھایا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے، تو تم اس کو بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2764]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا: ”تم میں سے کچھ لوگ یہ دکھائے گئے ہیں کہ یہ پہلے ہفتہ میں ہے اور تم سے کچھ لوگ یہ دکھائے گئے کہ یہ آخری ہفتہ میں ہیں تو تم اسے آخر دھاکے میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2765
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ".
عقبہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اگر تم میں سے کوئی کمزور پڑ جائے یا بے بس ہو جائے تو وہ باقی کی سات راتوں میں (کسی صورت سستی یا کمزوری سے) مغلوب نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2765]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ اگر تم میں سے کوئی کمزور اور عاجز ہو جائے تو وہ آخری سات دنوں میں تلاش میں سست نہ پڑے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2766
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ".
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”جو اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2766]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شب قدر کو ڈھو نڈنا چاہے وہ اسے آخری عشرے میں ڈھونڈے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1165 ترقیم شاملہ: -- 2767
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَبَلَةَ ، وَمُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَيَّنُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، أَوَ قَالَ: فِي التِّسْعِ الْأَوَاخِرِ ".
شیبانی نے جبلہ اور محارب سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لیلۃ القدر کے وقت آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ یا فرمایا: ”آخری سات راتوں میں (تلاش کرو)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2767]
حضرت بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”شب قدر کا وقت آخری عشرے یا آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1166 ترقیم شاملہ: -- 2768
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ "، وقَالَ حَرْمَلَةُ: فَنَسِيتُهَا.
ہمیں ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی (کہا:) مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (خواب میں) شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیدار کر دیا تو وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے بعد میں آنے والی (آخری) دس راتوں میں تلاش کرو۔“ حرملہ نے (”مجھے بھلا دی گئی“ کے بجائے) ”میں اسے بھول گیا“ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2768]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خواب میں شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے گھر کے کسی فرد نے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا اس لیے باقی (آخری)عشرے میں تلاش کرو۔“ (ایک راوی نے ”نَسِيتُها“ نون کے پیش اور سین مشدد پڑھا ہے اور ایک نے نون زبر اور سین کو مخفف پڑھا ہے)- [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1166
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2769
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ تَمْضِي عِشْرُونَ لَيْلَةً، وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، يَرْجِعُ إِلَى مَسْكَنِهِ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا، فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً،
ہمیں بکر نے ابن ہاد سے حدیث سنائی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے جو مہینے کے درمیان میں ہوتے ہیں، جب وہ وقت آتا کہ بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور وہ شخص بھی لوٹ جاتا جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتا تھا۔ پھر آپ ایک مہینے، جس میں آپ نے اعتکاف کیا تھا، اس رات ٹھہرے رہے جس میں آپ (گھر) لوٹ جایا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”میں ان (درمیانے) دس دنوں کا اعتکاف کرتا تھا۔ پھر مجھ پر منکشف ہوا کہ میں اس آخری عشرے کا اعتکاف کروں۔ تو جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے اعتکاف کی جگہ ہی میں رات بسر کرے اور بلاشبہ میں نے یہ رات خواب میں دیکھی ہے اس کے بعد وہ مجھے بھلا دی گئی۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ میں اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ میں مسجد (کی چھت) ٹپک پڑی، میں نے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے، آپ کو دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک مٹی اور پانی سے بھیگا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2769]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھتے تھے تو جب بیس راتیں گزر جاتی اور اکیسویں شب کی آمد ہوتی تو اپنے گھر لوٹ جاتے اور جو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معتکف ہوتے وہ بھی گھروں کو لوٹ جاتے پھر ایک ماہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا تھا اس رات ٹھہر گئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ جایا کرتے تھے یعنی اکیسویں رات بھی ٹھہر گئے لوگوں کو خطاب فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چاہا اس کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس (درمیان)عشرہ کا اعتکاف کرتا تھا اب مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ میں اس آخری عشرہ کا اعتکاف کروں تو جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف بیٹھے ہیں وہ رات اپنے معتکف (جائے اعتکاف) میں بسر کریں کیونکہ مجھے یہ رات خواب میں دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی اس لیے اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلی (نماز گاہ میں پانی ٹپکا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر ہو چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1167 ترقیم شاملہ: -- 2770
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ "، وَقَالَ: " وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً ".
عبدالعزیز، یعنی دراوردی نے یزید (بن ہاد) سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے۔۔۔ (آگے) اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے (اپنے ”اعتکاف کی جگہ میں رات گزارنے“ کے بجائے) ”اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرے رہے“ کہا اور کہا: آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2770]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی صرف اتنا فرق ہے کہ میں "”ليَثبِتَ“ رات گزارے کی بجائے ”فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ“ ٹھہرا اور جما رہے تھے اور ”مُبتَلّ“ تر تھی کی جگہ ”مُمتَلِلاءً“ ہے آلودہ تھی اور ”وَجهه“ کی بجائے ”جَبِين“ کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة