🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب بَيَانِ وُجُوهِ الإِحْرَامِ وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2920
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ، غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَذَوِي الْيَسَارَةِ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا، وَلَا قَوْلُهَا: وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ، فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ.
حماد (بن سلمہ) نے عبدالرحمان سے حدیث بیان کی انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم نے حج کا تلبیہ پکارا جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (میرے حجرے میں) داخل ہوئے تو میں رو رہی تھی (حماد نے) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں: قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کے پاس تھی۔ پھر جب وہ چلے تو انہوں نے تلبیہ پکارا۔ اور نہ یہ قول (ان کی حدیث میں ہے) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر (بار بار) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2920]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ہم نے حج کا تلبیہ کہا، حتیٰ کہ جب ہم سرف جگہ پر پہنچے تو مجھے حیض آنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، اس کے بعد اوپر والی ماجشون کی روایت کے مطابق ہے، ہاں اتنی بات حماد کی اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ ہدی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور صاحب ثروت حضرات کے پاس تھی، پھر جب متمتع منیٰ کو چلے تو انہوں نے احرام باندھا اور نہ ہی اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ہے: میں کم عمر لڑکی تھی، میں اونگھنے لگتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2920]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2921
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْرَدَ الْحَجَّ ".
مالک نے عبدالرحمان بن قاسم سے انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج (افراد) کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2921]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مفرد کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2921]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2922
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ، فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا "، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ "، قُلْتُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ، فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ: " وَمَا لَكِ؟ "، قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ ": " فَلَا يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ "، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا "، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " هَلْ فَرَغْتِ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ.
افلح بن حمید نے قاسم سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں (پابندیوں) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے حتیٰ کہ سرف کے مقام پر اترے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: تم میں سے جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے تو ایسا کرلے اور جس کے ساتھ قربانی کے جانور ہیں وہ (ایسا) نہ کرے۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس (عمرے) کو اختیار کرلیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں۔ آپ نے پوچھا: (کیوں) تمہیں کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: میں نماز ادا نہیں کرسکتی۔ آپ نے فرمایا: یہ (ایام عمرے حج میں) تمہارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں (لگی) رہو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ (عمرے کا) اجر بھی دے گا تم آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے۔ کہا (پھر) میں احرام ہی کی حالت میں) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور (تب) میں ایام سے پاک ہوگئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (میرے بھائی) کو بلایا اور ان سے) فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر (تنعیم) لے جاؤ تاکہ یہ (احرام باندھ کر) عمرے کا تلبیہ کہے اور (عمرے کے لیے بیت اللہ (اور صفا مروہ) کا طواف کرلے۔ میں (تمہاری واپسی تک) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ہم نکل پڑے میں نے (احرام باندھ کر) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے۔ آپ نے (مجھ سے) پوچھا: کیا تم (عمرے سے) فارغ ہوگئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کوچ کے اعلان کا حکم دیا۔ آپ (وہاں سے) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف (وداع) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2922]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں، حج کے اوقات میں اور حج کی راتوں میں، حج کا احرام باندھ کر نکلے، حتیٰ کہ ہم نے مقامِ سرف پر پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پاس گئے اور فرمایا: تم میں سے جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام بنانا چاہے، تو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس ہدی ہے، وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ تو بعض نے جن کے پاس ہدی نہ تھی، اس کو عمرہ بنا لیا اور بعض نے رہنے دیا، رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبِ استطاعت کچھ ساتھیوں کے پاس ہدی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیوں روتی ہو؟ میں نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے جو گفتگو فرمائی ہے، میں نے سن لی ہے، میں نے عمرہ کے بارے میں بھی سن لیا ہے (اور میں عمرہ نہیں کر سکتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا، میں نماز نہیں پڑھ سکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ تیرے لیے نقصان کا باعث نہیں، حج کا احرام برقرار رکھو، امید ہے، اللہ تمہیں عمرہ کی توفیق بھی دے گا، تم بھی تو آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی لکھا ہے جو ان کے لیے لکھا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں اپنے حج کے احرام میں رہی، حتیٰ کہ ہم نے منیٰ میں پڑاؤ کیا تو میں نے غسل کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ مَحصَب میں اترے تو عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ، تاکہ وہ عمرہ کا احرام باندھے، پھر بیت اللہ کا طواف کرے اور میں تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم حرم سے نکلے اور میں نے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے چکر لگائے اور ہم آدھی رات کو واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ہی تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھیوں میں کوچ کا اعلان کر دیا، وہاں سے چل کر بیت اللہ سے گزرے اور صبح کی نماز سے پہلے اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کی طرف رختِ سفر باندھ لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2922]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2923
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ، وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ "،
عبید اللہ بن عمر نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا (جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج (افراد) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں (قران) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2923]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم میں سے بعض نے حج مفرد کا احرام باندھا، بعض نے قران کیا اور بعض نے تمتع کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2923]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2924
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صرف) حج کے لیے آئیں تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2924]
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا حج کا احرام باندھ کر آئی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2924]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2925
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ "، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ،
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں: ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرلے تو احرام کھول دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عید کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرف سے (یہ گائے) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا: میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو (انہوں نے) فرمایا: اللہ کی قسم اس (عمرہ) نے تمہیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچائی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2925]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم ذوالقعدہ کے پانچ دن رہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارا خیال یہی تھا کہ حج کرنا ہے، حتیٰ کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نحر کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتایا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے (یعنی عمرہ نے) تمہیں حدیث صحیح طور پر بتائی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2925]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2926
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالوہاب اور سفیان بن عیینہ نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2926]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2927
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ . ح وَعَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ، قَالَ: " انْتَظِرِي فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ "، ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَظُنُّهُ، قَالَ: غَدًا وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ، أَوَ قَالَ: نَفَقَتِكِ،
ابراہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے رسول اللہ! لوگ حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے (اپنے گھروں کو) لوٹیں گے اور میں صرف ایک منسک (حج) کر کے لوٹوں گی؟ آپ نے فرمایا: تم ذرا انتظار کرو! جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم (کی طرف) چلی جانا اور وہاں سے (احرام باندھ کر عمرے کا) تلبیہ پکارنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا۔ ابراہیم نے کہا: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا تھا: کل۔ اور (فرمایا) لیکن وہ (تمہارے عمرے کا اجر) تمہاری مشقت یا فرمایا: خرچ ہی کے مطابق ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2927]
حضرت ام المومنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ دو (مستقل) عبادتیں کر کے واپس جائیں گے اور میں ایک عبادت (مستقل طور پر) کر کے لوٹوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انتظار کرو، جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم کی طرف نکل جانا اور وہاں سے احرام باندھ لینا اور پھر ہمیں فلاں فلاں جگہ کے قریب آ ملنا۔ (راوی کہتے ہیں، میرا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کل) لیکن اس کا ثواب تمہاری مشقت یا فرمایا تھا تمہارے خرچ کے مطابق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2927]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2928
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَإِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنَ الْآخَرِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم اور ابراہیم سے روایت کی (ابن عون نے کہا:) میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا۔ ام المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ دو منسک (حج اور عمرہ) کر کے لوٹیں۔ اور آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2928]
ابن عون، ام قاسم اور ابراہیم سے روایت کرتے ہیں، لیکن دونوں کی حدیث میں امتیاز نہیں کر سکتے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ دو عبادتیں کر کے واپس جائیں گے، اس کے بعد مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2928]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2929
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ: " أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ؟ "، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا "، قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ "، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: " لَا بَأْسَ انْفِرِي "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا، وَقَالَ إِسْحَاق: مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ،
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لایا وہ احرام کھول دے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) جتنے لوگ بھی قربانی ساتھ نہیں لائے تھے، انہوں نے احرام ختم کر دیا۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیاں نہیں لائیں تھیں تو وہ بھی احرام سے باہر آگئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (لیکن) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ حج اور عمرہ کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ آپ نے فرمایا: جن راتوں (تاریخوں) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر اپنے بھائی (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جاؤ اور وہاں سے (عمرے کا احرام باندھ کر) عمرے کا تلبیہ پکارو (اور عمرہ کر لو) پھر تم فلاں مقام پر آملنا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں (بھی) آپ کو روکنے والی ہوں گی۔ آپ نے فرمایا: (اپنی قوم کی زبان میں) عقریٰ حلقیٰ (بے اولاد، بے بال، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بولتے تھے) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا؟ کہا: کیوں نہیں (کیا تھا!) آپ نے فرمایا: (تو پھر) کوئی بات نہیں، اب چل پڑو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (دوسری صبح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے (اس وقت) ملے جب آپ مکہ سے چڑھائی پر آ رہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی۔ یا میں چڑھائی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے (واپس آرہے تھے)۔ اور اسحاق نے متہبطہ (اترنے والی) اور متہبط (اترنے والے) کے الفاظ کہے۔ (مفہوم وہی ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2929]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور ہمارا تصور یہی تھا کہ ہم حج کریں گے، جب ہم مکہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی لوگوں کو جو ہدی ساتھ نہیں لائے تھے احرام کھول دینے کا حکم دے دیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ جو لوگ ہدی ساتھ نہیں لائے تھے، انہوں نے احرام کھول دیا، (حلال ہو گئے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہدی نہیں لائی تھیں، اس لیے وہ بھی حلال ہو گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، مجھے حیض شروع ہو گیا، اس لیے میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی تو جب مَحصَب کی طرف لوٹ آئی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ عمرہ اور حج کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جن راتوں ہم مکہ پہنچے تھے تو نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ مقام تنعیم کے پاس جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ لو، پھر فلاں فلاں جگہ آ کر ہم سے مل جانا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میرا خیال ہے، میں آپ حضرات کو (جانے سے) روک لوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَقْرَى حَلْقَى» زخمی، سرمنڈی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا؟صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں، چلو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس حال میں ملے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے فراز (بلندی) کو چڑھ رہے تھے اور میں مکہ کی طرف اتر رہی تھی، یا میں چڑھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اتر رہے تھے، اسحاق نے «مُنْهَبِطَةٌ» اور «مُنْهَبِطٌ» کی جگہ «مُتَهَبِّطَةٌ» اور «مُتَهَبِّطٌ» کہا، معنی ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2929]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں